اسلام آباد( پاکستان خبر)حکومتِ پاکستان کے زیر اہتمام سندھ طاس معاہدے پر ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگیوں اور معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے، جس کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔اسلام آباد میں ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، انڈس واٹر ٹریٹی کے کمشنر سید مہر علی شاہ، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، عالمی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی سمیت مختلف ممالک کے مندوبین اور آبی ماہرین نے شرکت کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے عوام کا دریائے سندھ کے پانی پر مکمل حق ہے اور اگر پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو اس کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی بقا کا معاملہ ہے، جبکہ دریائے سندھ ملک کی زراعت اور معیشت کی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق وادی سندھ کی تہذیب پاکستان کی تاریخی شناخت ہے اور دریائے سندھ صدیوں سے اس خطے کی زندگی اور ترقی کا ذریعہ رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دریائے سندھ کے پانی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔