تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

اڑیسہ: آٹھویں جماعت کی کتاب میں بالی ووڈ گانے شامل، نصاب پر بڑا تنازع

اڑیسہ: آٹھویں جماعت کی کتاب میں بالی ووڈ گانے شامل، نصاب پر بڑا تنازع

( شوبز ڈیسک)بھارت کی ریاست اڑیسہ میں آٹھویں جماعت کی نصابی کتاب میں بالی ووڈ کے معروف فلمی گانوں کو شامل کیے جانے پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کتاب کے صفحات سامنے آنے کے بعد والدین، اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم نے نصاب کی تیاری پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے حکام سے وضاحت طلب کر لی ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت تیار کی گئی آٹھویں جماعت کی آرٹ ایجوکیشن کی کتاب ’’کیرتی‘‘ کے ایک باب میں 1999 کی فلم ’’ہم دل دے چکے صنم‘‘ کے مشہور گانے ’’نمبوڑا نمبوڑا‘‘ کے مکمل بول شامل کیے گئے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کتاب میں اس گانے کو راجستھانی لوک گیت کے طور پر پیش کیا گیا، حالانکہ یہ ایک فلمی گیت ہے جسے اداکارہ ایشوریا رائے اور سلمان خان پر عکس بند کیا گیا تھا۔رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اسی نصابی کتاب میں فلم ’’مشن کشمیر‘‘ کا مقبول گانا ’’رند پوش مال‘‘ بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں صارفین نے سوال اٹھایا کہ اڑیسہ جیسی ثقافتی طور پر مالا مال ریاست میں مقامی لوک ورثے کے بجائے بالی ووڈ کے فلمی گانوں کو نصاب کا حصہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب انکشاف ہوا کہ نئی نصابی کتابوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار 678 غلطیاں پائی گئی ہیں، جس کے بعد ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔صورتحال سنگین ہونے پر اڑیسہ کے وزیراعلیٰ موہن چرن مانجھی اور وزیر تعلیم نتیانند گونڈ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (ایس سی ای آر ٹی) کے سینئر افسران کو معطل کر دیا، جبکہ مزید چھ افسران کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا حکم بھی دے دیا گیا۔ریاستی حکومت نے مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، جس نے سفارش کی ہے کہ نصابی مواد کی جانچ کے لیے ’’کوالٹی ایشورنس سیل‘‘ بنایا جائے تاکہ آئندہ تعلیمی مواد کی تیاری میں معیار اور درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔