تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

آئل کمپنیوں کی ٹیکس چوری کا انکشاف، ایف بی آر نے تحقیقات شروع کر دیں

آئل کمپنیوں کی ٹیکس چوری کا انکشاف، ایف بی آر نے تحقیقات شروع کر دیں

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں ایران امریکا کشیدگی کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔اجلاس میں کسٹمز حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات اور آڈٹ کا حکم دے دیا گیا ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے دو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کے معاملے کی چھان بین کا فیصلہ کیا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے کمیٹی روم میں ہوا، جس میں سول سرونٹ ترمیمی بل 2026 کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران سے متعلق معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجنے کی تجویز پیش کی گئی۔تیل کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس اور ڈیوٹی ادائیگی کے معاملے پر کسٹمز حکام نے بتایا کہ جنگی صورتحال کے دوران پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کی شرح میں نمایاں تبدیلیاں آئیں، جبکہ بعض کمپنیوں کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر کی اطلاعات سامنے آئیں۔حکام کے مطابق زیادہ تر تیل کمپنیاں ڈیلرز کے ذریعے اپنی مصنوعات فروخت کرتی ہیں اور بعد میں ڈیوٹیز ادا کرتی رہی ہیں، جس کے باعث حکومت کو ملنے والی رقم تاخیر سے خزانے میں جمع ہوئی۔کسٹمز حکام نے کہا کہ ڈیوٹی ادا کیے بغیر سامان منتقل کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ بعض کمپنیوں نے پہلے مصنوعات حاصل کیں اور بعد میں جب لیوی کی شرح میں کمی ہوئی تو ادائیگیاں کیں۔حکام کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے پاس سبسڈی کے دعوے جمع کرائے گئے، جس کے بعد متعلقہ تیل کمپنیوں کی جانچ شروع کی گئی۔