نیویارک ( کامرس ڈیسک) امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کی ترسیل کی رفتار دوبارہ سست ہو گئی ہے۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 58 سینٹ (0.8 فیصد) اضافے کے ساتھ 72.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 88 سینٹ (1.3 فیصد) اضافے کے بعد 70.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔آئی این جی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی مارکیٹ کو اب بھی متعدد خطرات کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود مارکیٹ کے شرکا اس بات پر توجہ دے رہے ہیں کہ اگر ترسیل میں بحالی کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی توازن پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں مارکیٹ کا اطمینان حیران کن ہے، اور اگر رسد کی بحالی سست رہی تو قیمتوں میں نمایاں اضافے کا واضح خطرہ موجود ہے۔آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی ترسیل میں تبدیلی کے بعد گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو مسلسل تیسرا ہفتہ تھا جب قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔