تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

امریکہ ایران کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

امریکہ ایران کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

نیویارک ( کامرس ڈیسک) امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کی ترسیل کی رفتار دوبارہ سست ہو گئی ہے۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 58 سینٹ (0.8 فیصد) اضافے کے ساتھ 72.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 88 سینٹ (1.3 فیصد) اضافے کے بعد 70.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔آئی این جی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی مارکیٹ کو اب بھی متعدد خطرات کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود مارکیٹ کے شرکا اس بات پر توجہ دے رہے ہیں کہ اگر ترسیل میں بحالی کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی توازن پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں مارکیٹ کا اطمینان حیران کن ہے، اور اگر رسد کی بحالی سست رہی تو قیمتوں میں نمایاں اضافے کا واضح خطرہ موجود ہے۔آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی ترسیل میں تبدیلی کے بعد گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو مسلسل تیسرا ہفتہ تھا جب قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔