تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

آبنائے ہرمز سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، خام تیل 78 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

آبنائے ہرمز سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، خام تیل 78 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 2.67 ڈالر یعنی 3.51 فیصد اضافے کے بعد 78.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ یہ خدشہ ہے کہ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔امریکی ادارہ توانائی اطلاعات کے مطابق تنازع سے قبل دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کیا جاتا تھا، اسی وجہ سے عالمی منڈی اس اہم بحری گزرگاہ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔واضح رہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف نئے حملے شروع کیے ہیں۔سینٹکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری اور تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔