تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ فوری شروع کرنے کا حکم

سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ فوری شروع کرنے کا حکم

اسلام آباد( پاکستان خبر) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر وفاق کے زیر انتظام تمام سرکاری اسپتالوں میں فوری طور پر آگ سے بچاؤ کے حفاظتی معائنے شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق اس سلسلے میں باضابطہ مراسلہ جاری کردیا گیا ہے۔ ماہر اور مجاز فائر سیفٹی کمپنی کے ذریعے اسپتالوں کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا، جس میں فائر الارم، آگ بجھانے کے آلات، ہنگامی دروازوں اور انخلا کے راستوں کا جائزہ لیا جائے گا۔معائنے کے دوران بجلی کے نظام سمیت آگ لگنے کے ممکنہ اسباب، ہنگامی ردعمل کے انتظامات اور کسی حادثے کی صورت میں اسپتال کے عملے کی تیاری بھی جانچی جائے گی۔وزارتِ صحت نے ہدایت کی ہے کہ معائنے کے دوران سامنے آنے والی ایسی خامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے جو انسانی جان یا املاک کے لیے فوری خطرہ بن سکتی ہیں۔تمام اسپتالوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ معائنے کے آغاز، متعلقہ فائر سیفٹی کمپنی اور عمل کی تکمیل کی متوقع تاریخ سے وزارتِ صحت کو آگاہ کیا جائے۔اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی سرکاری و نجی طبی اداروں میں فائر سیفٹی آڈٹ شروع کرانے اور اس کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اتھارٹی جامع رپورٹ وزارتِ صحت کو پیش کرے گی، جس میں آڈٹ مکمل کرنے والے اور تاحال زیرِ التوا اداروں کی تفصیلات شامل ہوں گی۔