تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

غزہ میں 11 ہزار سے زائد فلسطینی تاحال لاپتہ

غزہ میں 11 ہزار سے زائد فلسطینی تاحال لاپتہ

غزہ ( مانیٹرنگ ڈیسک)اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نسل کشی شروع کیے جانے کے بعد سے علاقے میں 11 ہزار 200 سے زائد فلسطینی لاپتہ ہیں۔فلسطینی وزارت انصاف کے مطابق لاپتہ افراد میں وہ شہری بھی شامل ہیں جن کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ کچھ افراد اسرائیلی حملوں یا جبری انخلا کے دوران لاپتہ ہوئے۔ اس کے علاوہ ہزاروں فلسطینیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیلی حراست میں جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ سے گرفتار کیے گئے افراد کے نام، مقام اور طبی حالت سمیت دیگر معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق اہلِ خانہ، وکلا اور انسانی حقوق کے اداروں کو بھی زیرحراست افراد تک رسائی نہیں دی جا رہی۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران ہلاک ہونے والے غزہ کے فلسطینیوں کی لاشیں ان کے اہلِ خانہ کے حوالے نہیں کی جارہیں، جبکہ دیگر افراد کی باقیات مردہ خانوں اور مخصوص تدفین گاہوں میں رکھی گئی ہیں۔فلسطینی وزارت انصاف کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد لاپتہ یا جبری طور پر غائب کیے جانے والے افراد میں 4 ہزار 700 سے زائد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔انسانی حقوق کے مطابق جبری گمشدگی بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے اور اگر یہ بڑے پیمانے یا منظم انداز میں کی جائے تو اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔