تازہ ترین
پاکستان سعودی دفاعی تعاون جاری، معاہدے پر عمل میں وقت لگے گا اسحاق ڈار کی حاقان فیدان سے گفتگو، فلسطین پر اتفاق بلوچستان میں 25 لیڈی میڈیکل افسران ملازمت سے برطرف جنگ ستمبر، پاک فوج کی جوابی کارروائی سے بھارتی فوج پسپا یمنی سفیر کا ایران پر حوثیوں کو استعمال کرنے کا الزام پاکستان کا ایران سے حوثیوں کے حملے رکوانے کا مطالبہ ایران جنگ 2029 تک جاری رہنے کا خدشہ، امریکی میڈیا حوثیوں نے بحیرہ احمر کے اہم ساحلی شہر موخا پر قبضہ کرلیا وزیراعظم نے آٹو پالیسی 2026 کی منظوری دے دی اسٹاک مارکیٹ میں مندی، 100 انڈیکس 170 ہزار کی سطح سے نیچے صرف ستمبر میں پٹرول 28 اور ڈیزل 22 روپے فی لٹر مہنگا ہوا: رپورٹ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوگیا این سی سی آئی اے نے امام الحق اور رضوان کو طلب کرلیا فیفا آسیان کپ، پاکستان گروپ بی میں تھائی لینڈ سے مقابلہ کرے گا سابق پاکستانی آل راؤنڈر انور علی کو امریکی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر سیف گیمز کی میزبانی، کھیلوں کے مراکز کیلئے 5.7 ارب منظور
پاکستان خبر

غزہ میں 11 ہزار سے زائد فلسطینی تاحال لاپتہ

غزہ میں 11 ہزار سے زائد فلسطینی تاحال لاپتہ

غزہ ( مانیٹرنگ ڈیسک)اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نسل کشی شروع کیے جانے کے بعد سے علاقے میں 11 ہزار 200 سے زائد فلسطینی لاپتہ ہیں۔فلسطینی وزارت انصاف کے مطابق لاپتہ افراد میں وہ شہری بھی شامل ہیں جن کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ کچھ افراد اسرائیلی حملوں یا جبری انخلا کے دوران لاپتہ ہوئے۔ اس کے علاوہ ہزاروں فلسطینیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیلی حراست میں جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ سے گرفتار کیے گئے افراد کے نام، مقام اور طبی حالت سمیت دیگر معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق اہلِ خانہ، وکلا اور انسانی حقوق کے اداروں کو بھی زیرحراست افراد تک رسائی نہیں دی جا رہی۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران ہلاک ہونے والے غزہ کے فلسطینیوں کی لاشیں ان کے اہلِ خانہ کے حوالے نہیں کی جارہیں، جبکہ دیگر افراد کی باقیات مردہ خانوں اور مخصوص تدفین گاہوں میں رکھی گئی ہیں۔فلسطینی وزارت انصاف کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد لاپتہ یا جبری طور پر غائب کیے جانے والے افراد میں 4 ہزار 700 سے زائد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔انسانی حقوق کے مطابق جبری گمشدگی بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے اور اگر یہ بڑے پیمانے یا منظم انداز میں کی جائے تو اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔