اسلام آباد( پاکستان خبر) پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق پاکستان، قطر، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور مذاکراتی عمل بحال کرانے کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ثالث ممالک جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کیلئے سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح پر بات چیت بحال کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ایگزیوس کے مطابق ثالث ممالک مفاہمت کے عمل کو برقرار رکھنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی حملے معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشیدگی کے باوجود تنازع کا سفارتی حل چاہتے ہیں اور جوہری معاہدے سے متعلق تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس سے قبل ایک امریکی عہدیدار نے بتایا تھا کہ حملوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ کسی ممکنہ حل تک پہنچنے کیلئے پرعزم ہے۔امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی برقرار ہے، تاہم سفارتی رابطے اور مذاکراتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ تنازع کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔