اسلام آباد( و یب ڈیسک) نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حیدر عباس نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال پاکستان کو 400 سے زائد سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم مؤثر حکمت عملی اور بروقت اقدامات کے باعث تمام حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ایک خصوصی انٹرویو میں ملک کو لاحق بڑھتے ہوئے سائبر خطرات، خاص طور پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والی سائبر کارروائیوں پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حیدر عباس نے قومی سائبر سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بااختیار نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے قیام کی تجویز دی۔ڈی جی این سی ای آر ٹی کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک ایسے مضبوط ادارے کی ضرورت ہے جو براہِ راست وزیراعظم کی نگرانی میں کام کرے اور پورے ملک کے سائبر تحفظ کے نظام کو ایک مرکزی پلیٹ فارم کے تحت منظم کرے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے زیرِ نگرانی قائم ہونے والی بااختیار سائبر سیکیورٹی اتھارٹی قومی ڈیجیٹل سرحدوں کے تحفظ، سائبر خطرات سے نمٹنے اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔