تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

پاکستان پر 400 سائبر حملے ناکام، نیشنل سائبر اتھارٹی کا انکشاف

پاکستان پر 400 سائبر حملے ناکام، نیشنل سائبر اتھارٹی کا انکشاف

اسلام آباد( و یب ڈیسک) نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حیدر عباس نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال پاکستان کو 400 سے زائد سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم مؤثر حکمت عملی اور بروقت اقدامات کے باعث تمام حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ایک خصوصی انٹرویو میں ملک کو لاحق بڑھتے ہوئے سائبر خطرات، خاص طور پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والی سائبر کارروائیوں پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حیدر عباس نے قومی سائبر سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بااختیار نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے قیام کی تجویز دی۔ڈی جی این سی ای آر ٹی کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک ایسے مضبوط ادارے کی ضرورت ہے جو براہِ راست وزیراعظم کی نگرانی میں کام کرے اور پورے ملک کے سائبر تحفظ کے نظام کو ایک مرکزی پلیٹ فارم کے تحت منظم کرے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے زیرِ نگرانی قائم ہونے والی بااختیار سائبر سیکیورٹی اتھارٹی قومی ڈیجیٹل سرحدوں کے تحفظ، سائبر خطرات سے نمٹنے اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔