اسلام آباد( ویب ڈیسک) حکومت نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور انٹرنیٹ سہولیات کو جدید بنانے کے لیے نیشنل کنیکٹیوٹی پلان پر کام تیز کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر وزارتِ آئی ٹی تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد اس منصوبے کو جلد حتمی شکل دے گی۔ منصوبے میں ٹیلی کام شعبے سے متعلق قانونی اصلاحات، نئی پالیسیاں اور کمپنیوں کی ذمہ داریوں کا واضح تعین شامل ہوگا۔نیشنل کنیکٹیوٹی پلان کے تحت فائیو جی ٹیکنالوجی کے فروغ اور فائبر انٹرنیٹ نیٹ ورک کی توسیع کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ حکومت کا مقصد فری لانسرز، آئی ٹی ماہرین اور عام صارفین کو کم قیمت پر تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے۔منصوبے میں چھوٹے شہروں، دیہی علاقوں اور دور دراز مقامات تک تیز رفتار انٹرنیٹ کی رسائی یقینی بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز میں فکسڈ براڈ بینڈ سہولت فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ذرائع کے مطابق دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کے لیے ٹیکس میں ریلیف دینے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے فکسڈ براڈ بینڈ کی اوسط رفتار 30 ایم بی پی ایس سے بڑھا کر 85 ایم بی پی ایس تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔حکومت کا منصوبہ ہے کہ پاکستان کو براڈ بینڈ کارکردگی کے لحاظ سے دنیا کے 50 بہترین ممالک میں شامل کیا جائے، جبکہ موجودہ درجہ بندی میں پاکستان 92ویں نمبر پر ہے۔منصوبے کے تحت آئندہ تین برسوں میں موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن 16 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فائبر نیٹ ورک کی تنصیب کے اخراجات کم کرنے، فیس ختم کرنے اور تمام ضروری منظوریوں کے لیے ون ونڈو نظام متعارف کرانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
نیشنل کنیکٹیوٹی پلان تیار، انٹرنیٹ رفتار اور فائیو جی توسیع پر حکومت کا بڑا منصوبہ
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی