تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

پاکستان میں شرمپ فارمنگ کے فروغ کا منصوبہ، برآمدات اور روزگار میں اضافے کی امید

پاکستان میں شرمپ فارمنگ کے فروغ کا منصوبہ، برآمدات اور روزگار میں اضافے کی امید

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) وزیر اعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان میں ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں، جن کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹاسک فورس نے خاص طور پر جھینگا فارمنگ (شرمپ فارمنگ) کے فروغ پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، جس سے آبی زراعت کے شعبے کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ ملکی برآمدات میں نمایاں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔حکام کے مطابق پاکستان میں ماہی گیری لاکھوں افراد کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے، جبکہ اس شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ شرمپ فارمنگ کو فروغ دے کر ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔وزارتِ بحری امور کے مطابق محدود پیمانے پر تجارتی ماہی گیری کے فروغ کے لیے ایک جامع منصوبے پر کام جاری ہے، جس میں نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) سمیت مختلف ادارے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔منصوبے کے تحت سندھ، بلوچستان اور دیگر صوبوں کی نمکین زمینوں پر شرمپ فارمنگ کلسٹرز قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ 3 ہزار 500 ایکڑ اراضی کو جھینگا فارمز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں جدید سہولیات سے آراستہ کثیرالمقاصد ہیچری بھی قائم کی جائے گی۔مزید برآں جنوبی پنجاب میں تحقیق و ترقی کے مرکز کے قیام کے ساتھ 1 ہزار 570 افراد کو تربیت دی جائے گی تاکہ اس شعبے کے لیے ماہر افرادی قوت تیار کی جا سکے۔حکام کے مطابق نجی شعبے کے تعاون سے شرمپ ہیچریز، خوراک تیار کرنے والی فیکٹریاں اور پروسیسنگ مراکز بھی قائم کیے جائیں گے، جس سے آبی زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔