اسلام آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کے رعایتی آئل فنانسنگ پیکیج کی درخواست کر دی ہے۔وزارتِ اقتصادی امور کی ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب سے موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کی نئی سہولت دونوں ممالک کے درمیان زیرِ غور ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب سے 15 سالہ مدت کے لیے ایک فیصد شرحِ سود پر 6.7 ارب ڈالر کی آئل فنانسنگ سہولت طلب کی ہے، جبکہ اس ضمن میں دونوں ممالک کے درمیان وزارتی سطح پر مذاکرات بھی ہو چکے ہیں۔تجویز کے مطابق پاکستان نے قرض کی واپسی سے قبل پانچ سال کی رعایتی مدت (گریس پیریڈ) اور مجموعی طور پر 15 سال میں ادائیگی کی تجویز پیش کی ہے۔ وزارتِ اقتصادی امور کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر دونوں حکومتوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ترجمان نے اس سوال پر بھی تصدیق کی کہ پاکستان نے سعودی فنڈ برائے ترقی سے ایک فیصد شرحِ سود پر 15 سالہ آئل فنانسنگ سہولت کے لیے درخواست دی ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب 2019 سے پاکستان کو ایک سالہ موخر ادائیگی پر تیل فراہم کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں آخری معاہدہ فروری 2025 میں طے پایا تھا، جس کی مدت اپریل 2025 میں ختم ہو گئی تھی۔اس سے قبل سعودی فنڈ برائے ترقی اور وزارتِ اقتصادی امور کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کی تیل درآمدی فنانسنگ کا معاہدہ بھی ہو چکا ہے، جس پر شرحِ سود 6 فیصد مقرر تھی۔
پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کے رعایتی آئل فنانسنگ پیکیج کی درخواست
واپس خبروں پر
Category:
کامرس