تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

پاکستان میں پہلا مقامی کریڈٹ کارڈ جلد متعارف کرایا جانا متوقع

پاکستان میں پہلا مقامی کریڈٹ کارڈ جلد متعارف کرایا جانا متوقع

کراچی( کامرس ڈیسک) پاکستان میں جلد ہی پہلا مقامی پیمنٹ اسکیم کے تحت کریڈٹ کارڈ متعارف کروایا جائے گا، جسے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو آن لائن بینکاری خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ون لنک جاری کرے گی۔اس منصوبے کے تحت پاکستان ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جن کے پاس اپنی مقامی ادائیگی (پے منٹ) اسکیم اور کریڈٹ کارڈ کا مکمل نظام موجود ہے۔کراچی میں منعقدہ 19ویں موبائل کامرس کانفرنس کے دوران ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ون لنک کے چیف ایگزیکٹو نجیب آگرہ والا نے بتایا کہ یہ کریڈٹ کارڈ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون اور ممبر بینکوں کے اشتراک سے متعارف کروایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی کریڈٹ کارڈ کا اجرا پاکستان کے بینکاری شعبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، جس سے نہ صرف زیادہ سے زیادہ افراد کو مالیاتی نظام میں شامل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملک میں کریڈٹ کی دستیابی بھی بہتر ہوگی اور مقامی ادائیگی کے نظام کو مزید مضبوطی ملے گی۔ان کے مطابق ’’پے پاک‘‘ کریڈٹ کارڈ پورے ملک میں قابلِ استعمال ہوگا اور اس کے ذریعے بین الاقوامی ادائیگیاں بھی ممکن ہوں گی، جبکہ اس کا انتظام مکمل طور پر پاکستان کے اندر ہی رکھا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس نظام کے تحت وہ بینک بھی کریڈٹ کارڈ جاری کر سکیں گے جو مہنگے انفراسٹرکچر کی وجہ سے اب تک یہ سہولت فراہم نہیں کر پا رہے تھے۔ اس میں ایک لچکدار ادائیگی نظام رکھا گیا ہے، جس کے تحت بینکوں کو ابتدائی طور پر بھاری سرمایہ کاری نہیں کرنا پڑے گی بلکہ وہ اپنے صارفین کی ضروریات کے مطابق اخراجات کر سکیں گے۔