لاہور( سپورٹس ڈیسک) امریکا میں منعقدہ شکاگو میراتھون 2026 میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے پاکستانی رنرز نے حصہ لیا۔ ٹیکساس میں مقیم نزار نیانی پاکستانی شرکا میں نمایاں رہے، جنہوں نے 3 گھنٹے اور 45 سیکنڈ میں ریس مکمل کی۔نزار نیانی تین گھنٹے سے کم وقت میں میراتھون مکمل کرنے کا ہدف محض 46 سیکنڈ کے فرق سے حاصل نہ کرسکے۔ انہوں نے ابتدائی 10 کلومیٹر 40 منٹ 22 سیکنڈ جبکہ نصف میراتھون ایک گھنٹہ 25 منٹ 41 سیکنڈ میں مکمل کی، تاہم ریس کے دوسرے حصے میں رفتار کم ہونے کے باعث وہ اپنا ہدف حاصل نہ کرسکے۔ریس کے بعد نزار نیانی نے کہا کہ شکاگو میراتھون ان کے دل کے بہت قریب ہے اور حالات و نتائج جیسے بھی ہوں، جب تک اللہ نے اجازت دی اور وہ فٹ رہے، اس مقابلے میں شرکت کرتے رہیں گے۔ ان کے مطابق اس مرتبہ جسمانی کیفیت مثالی نہیں تھی، تاہم 26.2 میل کی یہ دوڑ انسان کی ہمت اور برداشت کا بھرپور امتحان لیتی ہے۔کراچی کے مصطفیٰ نے 3 گھنٹے 29 منٹ 18 سیکنڈ میں ریس مکمل کی، جبکہ نیویارک میں مقیم بشریٰ انجم پاکستانی خواتین میں سب سے نمایاں رہیں۔ انہوں نے 3 گھنٹے 31 منٹ ایک سیکنڈ میں میراتھون مکمل کی۔ بشریٰ نے نصف میراتھون ایک گھنٹہ 41 منٹ 34 سیکنڈ میں طے کی، تاہم بعد ازاں ان کی رفتار کم ہوگئی۔ابوبکر محمد افضل نے 3 گھنٹے 32 منٹ 39 سیکنڈ جبکہ پاکستانی نژاد امریکی بابر غیاث نے 3 گھنٹے 42 منٹ 44 سیکنڈ میں فنش لائن عبور کی۔ ریاض کے ابراہیم عبدالخالق نے 3 گھنٹے 44 منٹ ایک سیکنڈ اور لاہور کے 67 سالہ حامد بٹ نے 3 گھنٹے 49 منٹ 48 سیکنڈ میں ریس مکمل کی۔ حامد بٹ دو مرتبہ سکس اسٹار فنشر کا اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔دیگر پاکستانی رنرز میں تیمور ملک نے 4 گھنٹے 5 منٹ 34 سیکنڈ، برطانوی پاکستانی حسن علی نے 4 گھنٹے 14 منٹ 55 سیکنڈ، باسل خان نے 4 گھنٹے 16 منٹ 56 سیکنڈ اور سارہ راٹھور نے 4 گھنٹے 22 منٹ 6 سیکنڈ میں ریس مکمل کی۔عماد شیخ نے 4 گھنٹے 38 منٹ 9 سیکنڈ، برطانوی پاکستانی وردہ میر نے 5 گھنٹے 3 منٹ 55 سیکنڈ، غسان طیب نے 5 گھنٹے 12 منٹ 21 سیکنڈ، زارا آرڈونیز نے 5 گھنٹے 16 منٹ 36 سیکنڈ، حسن سلیم نے 5 گھنٹے 17 منٹ 5 سیکنڈ اور دانیال امیر لکڑا والا نے 5 گھنٹے 18 منٹ 6 سیکنڈ میں فاصلہ طے کیا۔کراچی کے انیس کاسمانی نے 5 گھنٹے 25 منٹ، برطانوی پاکستانی حماد علی نے 5 گھنٹے 29 منٹ 5 سیکنڈ، احمد زبیر نے 5 گھنٹے 32 منٹ 8 سیکنڈ اور کراچی کی عائشہ انتصار نے 5 گھنٹے 35 منٹ 14 سیکنڈ میں میراتھون مکمل کی۔پاکستان میں تعینات رہنے والے سابق برطانوی سفارت کار مائیک نیتھاوریاناکس نے بھی مقابلے میں حصہ لیا اور 3 گھنٹے 18 منٹ 4 سیکنڈ میں ریس مکمل کی۔ انہوں نے پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ادارے دی سٹیزنز فاؤنڈیشن کے لیے عطیات جمع کرنے کی غرض سے میراتھون میں شرکت کی۔شکاگو میراتھون دنیا کی آٹھ بڑی عالمی میراتھونز میں شامل ہے۔ رواں سال اس ایونٹ میں 55 ہزار سے زائد رنرز شریک ہوئے۔ 42.195 کلومیٹر طویل ریس کا آغاز اور اختتام گرانٹ پارک میں ہوا، جبکہ اس کا راستہ شکاگو کے 29 مختلف علاقوں سے گزرا۔مینز ایلیٹ ریس میں کینیا کے ایموس کیپروٹو نے 2 گھنٹے ایک منٹ 9 سیکنڈ میں کامیابی حاصل کی۔ ایتھوپیا کے تاڈیسے بیکیلا 2 گھنٹے 2 منٹ 56 سیکنڈ کے ساتھ دوسرے جبکہ ملکسا مینگیشا 2 گھنٹے 3 منٹ 46 سیکنڈ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ویمنز ایلیٹ ریس میں ایتھوپیا کی ہاوی فیسا نے 2 گھنٹے 13 منٹ 33 سیکنڈ میں کامیابی حاصل کرکے اپنے اعزاز کا دفاع کیا۔ کینیا کی شیرون لوکیڈی 2 گھنٹے 14 منٹ 7 سیکنڈ کے ساتھ دوسرے اور بریگیڈ کوسگئی 2 گھنٹے 14 منٹ 55 سیکنڈ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہیں۔میراتھون کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کی ایک ہی ریس میں تین ایتھلیٹس نے 2 گھنٹے 15 منٹ سے کم وقت میں مقررہ فاصلہ مکمل کیا۔