تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

پاکستان کا تیل درآمدی بل جولائی میں 1.28 ارب ڈالر ہوگیا

پاکستان کا تیل درآمدی بل جولائی میں 1.28 ارب ڈالر ہوگیا

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان کے تیل کی درآمد پر ہونے والے اخراجات جولائی میں بڑھ کر 1.28 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 3 کھرب 57 ارب روپے تک پہنچ گئے، جس سے ملکی درآمدی دباؤ مزید بڑھ گیا۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھی درآمدی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران فوسل ایندھن درآمد کرنے والے ممالک پر مجموعی طور پر تقریباً 330 ارب ڈالر کا اضافی مالی بوجھ پڑا۔سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں ایران سے متعلق کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں شامل ہیں، جن سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔اضافی اخراجات کے اعتبار سے یورپی یونین سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جسے تقریباً 78 ارب ڈالر زائد ادا کرنا پڑے۔ چین 35 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے جبکہ بھارت 22 ارب ڈالر کے اضافی بوجھ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ادھر بھارت کے خام تیل کی درآمد پر ہونے والے اخراجات میں بھی 56 فیصد سے زیادہ اضافہ سامنے آیا ہے، جو عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا واضح اثر ہے۔