تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس پاکستانی بھائیوں نے بنایا تھا

دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس پاکستانی بھائیوں نے بنایا تھا

 لاہور( ویب ڈیسک)بہت سے پاکستانیوں کے لیے یہ بات حیران کن ہوگی کہ دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس پاکستان میں تیار کیا گیا تھا۔ یہ وائرس لاہور کے دو بھائیوں نے بنایا تھا اور اسے جدید کمپیوٹر وائرسز کی ابتدائی شکل قرار دیا جاتا ہے۔دنیا کا پہلا ذاتی کمپیوٹر بوٹ سیکٹر وائرس ’’برین‘‘ جنوری 1986 میں لاہور کے رہائشی بھائی باسط فاروق علوی اور امجد فاروق علوی نے تیار کیا۔دونوں بھائیوں نے یہ پروگرام اپنے تیار کردہ طبی سافٹ ویئر کی غیر قانونی نقل کو روکنے کے مقصد سے بنایا تھا۔ اس اعتبار سے ’’برین‘‘ کا مقصد کمپیوٹر کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ سافٹ ویئر کی نقل سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔یہ وائرس 5.25 انچ کی فلاپی ڈسک کے ذریعے پھیلتا تھا اور سافٹ ویئر کی غیر مجاز نقول بنائے جانے کی صورت میں فعال ہوجاتا تھا۔ اس میں دونوں بھائیوں کی دکان کا پتا، فون نمبرز اور ایک پوشیدہ حقوقِ تصنیف کا پیغام بھی موجود تھا۔