تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

پاکستان کے قدرتی آبی ذخائر خطرے میں، ویٹ لینڈز کی تباہی کا بحران

پاکستان کے قدرتی آبی ذخائر خطرے میں، ویٹ لینڈز کی تباہی کا بحران

لاہور( پاکستان خبر) کبھی پنجاب اور سندھ کے بیشتر دیہات میں موجود جوہڑ صرف پانی جمع کرنے کی جگہ نہیں بلکہ گاؤں کی زندگی کا اہم مرکز ہوا کرتے تھے۔ بارش کا پانی انہی تالابوں میں محفوظ ہوتا، مویشی پانی پیتے، پرندوں کو مسکن ملتا، کنول کے پھول کھلتے اور زیر زمین پانی کے ذخائر بھی انہی قدرتی نظاموں کے ذریعے دوبارہ بھر جاتے تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ ترقی، آبادی میں اضافے، زمین کے بدلتے استعمال اور ٹیوب ویلوں کے بڑھتے رجحان کے باعث یہ جوہڑ آہستہ آہستہ ختم ہوتے گئے اور ماضی کی یاد بن کر رہ گئے۔ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک بڑے ماحولیاتی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس کا تعلق قدرتی آبی اور دلدلی علاقوں یعنی ویٹ لینڈز کے تیزی سے خاتمے سے ہے۔ یہ علاقے سیلاب کی شدت کم کرنے، زیر زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے، آلودگی کو قدرتی طریقے سے صاف کرنے اور مختلف اقسام کے جانوروں و پرندوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں قدرت نے متعدد اہم ویٹ لینڈز عطا کیے ہیں۔ ملک میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل 19 رامسر ویٹ لینڈز موجود ہیں، جن میں دریائے سندھ کے سیلابی میدان، شمالی علاقوں کی جھیلیں اور سندھ کے ساحلی مینگرووز شامل ہیں۔تاہم شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ، زرعی تجاوزات، صنعتی آلودگی، دریاؤں میں پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یہ قدرتی ذخائر شدید خطرات سے دوچار ہو چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ویٹ لینڈز کو طویل عرصے تک غیر ضروری یا بیکار زمین سمجھنے کی غلطی کی گئی، حالانکہ حقیقت میں یہ قدرتی نظام زمین کے لیے اسپنج کا کردار ادا کرتے ہیں۔ان کے مطابق شدید بارشوں کے دوران ویٹ لینڈز اضافی پانی جذب کر لیتے ہیں، جبکہ خشک موسم میں یہی پانی آہستہ آہستہ زمین اور ماحول کو واپس فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ قدرتی نظام ختم ہو جائیں تو سیلاب زیادہ تباہ کن اور خشک سالی کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔