تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

پاکستان کے قدرتی آبی ذخائر خطرے میں، ویٹ لینڈز کی تباہی کا بحران

پاکستان کے قدرتی آبی ذخائر خطرے میں، ویٹ لینڈز کی تباہی کا بحران

لاہور( پاکستان خبر) کبھی پنجاب اور سندھ کے بیشتر دیہات میں موجود جوہڑ صرف پانی جمع کرنے کی جگہ نہیں بلکہ گاؤں کی زندگی کا اہم مرکز ہوا کرتے تھے۔ بارش کا پانی انہی تالابوں میں محفوظ ہوتا، مویشی پانی پیتے، پرندوں کو مسکن ملتا، کنول کے پھول کھلتے اور زیر زمین پانی کے ذخائر بھی انہی قدرتی نظاموں کے ذریعے دوبارہ بھر جاتے تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ ترقی، آبادی میں اضافے، زمین کے بدلتے استعمال اور ٹیوب ویلوں کے بڑھتے رجحان کے باعث یہ جوہڑ آہستہ آہستہ ختم ہوتے گئے اور ماضی کی یاد بن کر رہ گئے۔ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک بڑے ماحولیاتی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس کا تعلق قدرتی آبی اور دلدلی علاقوں یعنی ویٹ لینڈز کے تیزی سے خاتمے سے ہے۔ یہ علاقے سیلاب کی شدت کم کرنے، زیر زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے، آلودگی کو قدرتی طریقے سے صاف کرنے اور مختلف اقسام کے جانوروں و پرندوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں قدرت نے متعدد اہم ویٹ لینڈز عطا کیے ہیں۔ ملک میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل 19 رامسر ویٹ لینڈز موجود ہیں، جن میں دریائے سندھ کے سیلابی میدان، شمالی علاقوں کی جھیلیں اور سندھ کے ساحلی مینگرووز شامل ہیں۔تاہم شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ، زرعی تجاوزات، صنعتی آلودگی، دریاؤں میں پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یہ قدرتی ذخائر شدید خطرات سے دوچار ہو چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ویٹ لینڈز کو طویل عرصے تک غیر ضروری یا بیکار زمین سمجھنے کی غلطی کی گئی، حالانکہ حقیقت میں یہ قدرتی نظام زمین کے لیے اسپنج کا کردار ادا کرتے ہیں۔ان کے مطابق شدید بارشوں کے دوران ویٹ لینڈز اضافی پانی جذب کر لیتے ہیں، جبکہ خشک موسم میں یہی پانی آہستہ آہستہ زمین اور ماحول کو واپس فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ قدرتی نظام ختم ہو جائیں تو سیلاب زیادہ تباہ کن اور خشک سالی کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔