تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

پاکستان کے قدرتی آبی ذخائر خطرے میں، ویٹ لینڈز کی تباہی کا بحران

پاکستان کے قدرتی آبی ذخائر خطرے میں، ویٹ لینڈز کی تباہی کا بحران

لاہور( پاکستان خبر) کبھی پنجاب اور سندھ کے بیشتر دیہات میں موجود جوہڑ صرف پانی جمع کرنے کی جگہ نہیں بلکہ گاؤں کی زندگی کا اہم مرکز ہوا کرتے تھے۔ بارش کا پانی انہی تالابوں میں محفوظ ہوتا، مویشی پانی پیتے، پرندوں کو مسکن ملتا، کنول کے پھول کھلتے اور زیر زمین پانی کے ذخائر بھی انہی قدرتی نظاموں کے ذریعے دوبارہ بھر جاتے تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ ترقی، آبادی میں اضافے، زمین کے بدلتے استعمال اور ٹیوب ویلوں کے بڑھتے رجحان کے باعث یہ جوہڑ آہستہ آہستہ ختم ہوتے گئے اور ماضی کی یاد بن کر رہ گئے۔ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک بڑے ماحولیاتی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس کا تعلق قدرتی آبی اور دلدلی علاقوں یعنی ویٹ لینڈز کے تیزی سے خاتمے سے ہے۔ یہ علاقے سیلاب کی شدت کم کرنے، زیر زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے، آلودگی کو قدرتی طریقے سے صاف کرنے اور مختلف اقسام کے جانوروں و پرندوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں قدرت نے متعدد اہم ویٹ لینڈز عطا کیے ہیں۔ ملک میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل 19 رامسر ویٹ لینڈز موجود ہیں، جن میں دریائے سندھ کے سیلابی میدان، شمالی علاقوں کی جھیلیں اور سندھ کے ساحلی مینگرووز شامل ہیں۔تاہم شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ، زرعی تجاوزات، صنعتی آلودگی، دریاؤں میں پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یہ قدرتی ذخائر شدید خطرات سے دوچار ہو چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ویٹ لینڈز کو طویل عرصے تک غیر ضروری یا بیکار زمین سمجھنے کی غلطی کی گئی، حالانکہ حقیقت میں یہ قدرتی نظام زمین کے لیے اسپنج کا کردار ادا کرتے ہیں۔ان کے مطابق شدید بارشوں کے دوران ویٹ لینڈز اضافی پانی جذب کر لیتے ہیں، جبکہ خشک موسم میں یہی پانی آہستہ آہستہ زمین اور ماحول کو واپس فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ قدرتی نظام ختم ہو جائیں تو سیلاب زیادہ تباہ کن اور خشک سالی کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔