تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

پمز آتشزدگی، عملے اور افسران کی غفلت ثابت، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار

پمز آتشزدگی، عملے اور افسران کی غفلت ثابت، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار

اسلام آباد( پاکستان خبر) وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی، جس میں اسپتال کے افسران اور عملے کی غفلت سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق ریسکیو ٹیم کو تالے، رکاوٹوں اور تکنیکی عملے کی عدم موجودگی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ آگ بجھانے کے لیے مناسب آلات بھی دستیاب نہیں تھے۔ ریسکیو اہلکاروں کو دیواریں توڑ کر نرسری تک پہنچنا پڑا۔کمیٹی نے 30 سے زائد ملازمین، ڈاکٹرز، نرسز اور 18 سے زائد سکیورٹی گارڈز کے بیانات ریکارڈ کیے، جبکہ آن ڈیوٹی عملے کا بائیومیٹرک ریکارڈ، فائر بریگیڈ کی آمد کا وقت اور ریسکیو ٹیم کی کارروائی کی مکمل ٹائم لائن بھی جانچی گئی۔کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے لیے پانچ دن کا وقت دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سی ڈی اے نے فائر سیفٹی انتظامات سے متعلق پمز انتظامیہ کو دوبارہ خط لکھ دیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور عملے کی معطلی سمیت وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔