اسلام آباد( پاکستان خبر) وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی، جس میں اسپتال کے افسران اور عملے کی غفلت سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق ریسکیو ٹیم کو تالے، رکاوٹوں اور تکنیکی عملے کی عدم موجودگی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ آگ بجھانے کے لیے مناسب آلات بھی دستیاب نہیں تھے۔ ریسکیو اہلکاروں کو دیواریں توڑ کر نرسری تک پہنچنا پڑا۔کمیٹی نے 30 سے زائد ملازمین، ڈاکٹرز، نرسز اور 18 سے زائد سکیورٹی گارڈز کے بیانات ریکارڈ کیے، جبکہ آن ڈیوٹی عملے کا بائیومیٹرک ریکارڈ، فائر بریگیڈ کی آمد کا وقت اور ریسکیو ٹیم کی کارروائی کی مکمل ٹائم لائن بھی جانچی گئی۔کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے لیے پانچ دن کا وقت دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سی ڈی اے نے فائر سیفٹی انتظامات سے متعلق پمز انتظامیہ کو دوبارہ خط لکھ دیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور عملے کی معطلی سمیت وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
پمز آتشزدگی، عملے اور افسران کی غفلت ثابت، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان