سیالکوٹ( پاکستان خبر) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پمز میں سامنے آنے والے معاملات کو صحت کے شعبے کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں بدعنوانی کا ایک مضبوط نظام موجود ہے، جسے ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔سیالکوٹ میں کارکنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے طبی سہولت کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پمز میں پیش آنے والے واقعات کا وزیراعظم نے بھی نوٹس لیا ہے۔ امید ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے بعد کچھ عملی نتائج سامنے آئیں گے، تاہم مجموعی صورتحال کو بہتر بنانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ صحت کا شعبہ انسانی جانیں بچانے کے لیے ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے بعض عناصر نے یہاں عوام کی خدمت کے بجائے اپنی جیبیں بھرنے اور بدعنوانی کو مقصد بنا لیا ہے۔ یہ صورتحال حکومت، عوام اور متعلقہ اداروں سب کے لیے تشویش کا باعث ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بدعنوانی کا ایک مضبوط گٹھ جوڑ اب بھی موجود ہے، جسے ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ پنجاب کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سے ڈھائی برس کے دوران صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے پر توجہ دی ہے، جس کے باعث کئی شعبوں میں بہتری آئی ہے، تاہم ملک کے دیگر حصوں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ وہ اس وقت ایک اسپتال میں موجود ہیں، اس لیے صحت کے شعبے کے مسائل پر بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پمز کا معاملہ صرف ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ یہ حکومت، عوام اور ان تمام افراد کے لیے اہم سوال ہے جن کے پاس اختیارات اور ذمہ داریاں ہیں۔وفاقی وزیر نے صحت کے اداروں کی نگرانی کے نظام پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض نگرانی کرنے والے اداروں میں ایسے افراد بھی شامل رہے جو خود طبی تعلیمی اداروں یا اسپتالوں کے مالکان تھے۔ اگر نگرانی کرنے والے ہی اسی شعبے کے کاروباری مفادات سے وابستہ ہوں تو مؤثر نگرانی کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟خواجہ آصف نے مزید کہا کہ کئی برس سے بعض اسپتالوں کی رجسٹریشن اور اجازت ناموں کے معاملات بھی سوالات کی زد میں ہیں۔ ان کے مطابق بعض بڑے اسپتالوں کے پاس اجازت نامے تو موجود ہیں، لیکن عوام کو بہتر طبی سہولت فراہم کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ترجیح بنتا جا رہا ہے۔