اسلام آباد( پاکستان خبر)پمز سانحے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں اسپتالوں اور طبی مراکز کے خلاف کارروائی تیز کردی گئی، جہاں فائر اینڈ لائف سیفٹی کے ناقص انتظامات پر 48 سرکاری و نجی اداروں کو مجموعی طور پر ایک کروڑ 40 لاکھ 50 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔اسلام آباد کے 48 اسپتالوں اور طبی مراکز میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا تو متعدد مقامات پر سنگین خامیاں سامنے آئیں۔کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اچانک معائنے کرتے ہوئے فائر سیفٹی اقدامات کا جائزہ لیا اور حفاظتی انتظامات مکمل نہ ہونے پر متعلقہ اداروں کے خلاف جرمانے کیے۔ 30 اور 31 اگست کو مختلف اسپتالوں اور طبی مراکز کے چالان کیے گئے، جن پر 50 ہزار سے 5 لاکھ روپے تک جرمانے عائد ہوئے۔اعلامیے کے مطابق پمز، پولی کلینک اور کیپیٹل اسپتال کو 5،5 لاکھ روپے جبکہ اسلام آباد کے معروف نجی اسپتال کو بھی 5 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔ سی ڈی اے کے مطابق ان اداروں کو اس سے قبل بھی حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے لیے متعدد نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں۔پمز کو پہلے 6، پولی کلینک کو 7 اور کیپیٹل اسپتال کو 6 نوٹس بھیجے جاچکے تھے، جبکہ معروف نجی اسپتال کو بھی اس سے قبل 9 نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق مختلف اسپتالوں میں آگ کا سراغ لگانے والے آلات، ہنگامی الارم، ایمرجنسی راستوں اور آگ بجھانے کے نظام میں سنگین نقائص پائے گئے۔ متعلقہ انتظامیہ کو جرمانوں کے ساتھ فائر اینڈ لائف سیفٹی کے مقررہ معیار پر فوری عمل درآمد کی سخت ہدایت بھی کی گئی۔سی ڈی اے نے فائر سیفٹی کی خلاف ورزیوں پر زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حفاظتی انتظامات بہتر نہ بنانے والے اداروں کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔