تازہ ترین
انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی
پاکستان خبر

وزیراعظم کی گلگت بلتستان سولر منصوبے میں شفافیت اور بروقت تکمیل کی ہدایت

وزیراعظم کی گلگت بلتستان سولر منصوبے میں شفافیت اور بروقت تکمیل کی ہدایت

اسلام آباد( پاکستان خبر) وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے میں مکمل شفافیت یقینی بنانے اور اسے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان کے 100 میگاواٹ سولر منصوبے سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں منصوبے پر پیشرفت اور آئندہ مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ماحول دوست، صاف، سستی اور پائیدار توانائی کا فروغ قومی توانائی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 100 میگاواٹ سولر منصوبہ وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے تحفہ ہے۔شہباز شریف نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تنصیب اور بروقت تکمیل کے لیے تمام ذمہ داریاں مؤثر انداز میں پوری کی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سولر منصوبے کی خریداری کے تمام مراحل میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور تمام ادائیگیاں تیسرے فریق کی تصدیق کے بعد کی جائیں۔اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت گلگت بلتستان کی 499 سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر بیٹری اسٹوریج سمیت 18 میگاواٹ کے سولر سسٹمز دسمبر 2026 تک نصب کیے جائیں گے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 82 میگاواٹ کے یوٹیلٹی اسکیل سولر منصوبے کا پی سی ون منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا گیا ہے، جس سے تقریباً 13 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔حکام کے مطابق منصوبے کی تکمیل سے گلگت بلتستان میں بجلی کی فراہمی کے معیار میں بہتری آئے گی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔