تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

وزیراعظم کی گلگت بلتستان سولر منصوبے میں شفافیت اور بروقت تکمیل کی ہدایت

وزیراعظم کی گلگت بلتستان سولر منصوبے میں شفافیت اور بروقت تکمیل کی ہدایت

اسلام آباد( پاکستان خبر) وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے میں مکمل شفافیت یقینی بنانے اور اسے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان کے 100 میگاواٹ سولر منصوبے سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں منصوبے پر پیشرفت اور آئندہ مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ماحول دوست، صاف، سستی اور پائیدار توانائی کا فروغ قومی توانائی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 100 میگاواٹ سولر منصوبہ وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے تحفہ ہے۔شہباز شریف نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تنصیب اور بروقت تکمیل کے لیے تمام ذمہ داریاں مؤثر انداز میں پوری کی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سولر منصوبے کی خریداری کے تمام مراحل میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور تمام ادائیگیاں تیسرے فریق کی تصدیق کے بعد کی جائیں۔اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت گلگت بلتستان کی 499 سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر بیٹری اسٹوریج سمیت 18 میگاواٹ کے سولر سسٹمز دسمبر 2026 تک نصب کیے جائیں گے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 82 میگاواٹ کے یوٹیلٹی اسکیل سولر منصوبے کا پی سی ون منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا گیا ہے، جس سے تقریباً 13 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔حکام کے مطابق منصوبے کی تکمیل سے گلگت بلتستان میں بجلی کی فراہمی کے معیار میں بہتری آئے گی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔