نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے ماہرینِ تعلیم، فلم سازوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں سمیت 60 سے زائد معروف شخصیات نے لداخ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک سے اپنی 20 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔59 سالہ سونم وانگچک گزشتہ 20 روز سے نئی دہلی میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں اور اس دوران صرف نمک اور پانی استعمال کر رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سونم وانگچک تعلیمی اصلاحات کے مطالبے اور نیٹ (NEET) امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ اس معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی مشترکہ اپیل پر نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات ابھیجیت بنرجی، ادیب امیتاو گھوش، اروندھتی رائے، کرن دیسائی، فلم ساز زویا اختر، وشال بھاردواج سمیت 60 سے زائد ممتاز شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔اپیل میں کہا گیا کہ سونم وانگچک اپنی بھوک ہڑتال کے 20ویں دن بھی ماحولیات اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے جدوجہد کی علامت ہیں۔ دستخط کنندگان نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں، کیونکہ ان کی قربانی اور حوصلے نے دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔