تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

برازیل میں طالبان پالیسیوں کے خلاف احتجاج، عالمی سطح پر تنقید میں اضافہ

برازیل میں طالبان پالیسیوں کے خلاف احتجاج، عالمی سطح پر تنقید میں اضافہ

ساؤ پاؤلو( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان کی پالیسیوں اور ان کے مبینہ یورپی دوروں کے خلاف برازیل میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے، جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم “وائس آف وومن” کی جانب سے برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں یہ احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا، جس میں طالبان کی پالیسیوں اور ان کے برسلز دورے کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔مظاہرے میں افغان مہاجرین کے ساتھ ساتھ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر افغان خواتین کی آزادی، تعلیم اور روزگار کے حق میں نعرے درج تھے۔مظاہرین کا مؤقف تھا کہ طالبان سے متعلق بین الاقوامی سطح پر کسی بھی قسم کی سفارتی سرگرمی یا دعوت افغان عوام کے جذبات اور انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔ احتجاج کے دوران “طالبان کو تسلیم نہ کرو” اور “افغان خواتین کے ساتھ یکجہتی” جیسے نعرے بھی بلند کیے گئے۔مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ طالبان کو ایک شدت پسند گروہ کے طور پر تسلیم کیا جائے اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر سخت اقدامات کیے جائیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے ساتھ تکنیکی یا سفارتی روابط کو بعض حلقے ان کی بین الاقوامی سطح پر قبولیت کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس پر مختلف ممالک میں بحث جاری ہے۔برازیل میں ہونے والا یہ احتجاج اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر طالبان پالیسیوں کے حوالے سے رائے عامہ منقسم ہونے کے بجائے زیادہ تر حلقوں میں شدید تنقید اور مخالفت پائی جاتی ہے۔