تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

برازیل میں طالبان پالیسیوں کے خلاف احتجاج، عالمی سطح پر تنقید میں اضافہ

برازیل میں طالبان پالیسیوں کے خلاف احتجاج، عالمی سطح پر تنقید میں اضافہ

ساؤ پاؤلو( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان کی پالیسیوں اور ان کے مبینہ یورپی دوروں کے خلاف برازیل میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے، جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم “وائس آف وومن” کی جانب سے برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں یہ احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا، جس میں طالبان کی پالیسیوں اور ان کے برسلز دورے کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔مظاہرے میں افغان مہاجرین کے ساتھ ساتھ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر افغان خواتین کی آزادی، تعلیم اور روزگار کے حق میں نعرے درج تھے۔مظاہرین کا مؤقف تھا کہ طالبان سے متعلق بین الاقوامی سطح پر کسی بھی قسم کی سفارتی سرگرمی یا دعوت افغان عوام کے جذبات اور انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔ احتجاج کے دوران “طالبان کو تسلیم نہ کرو” اور “افغان خواتین کے ساتھ یکجہتی” جیسے نعرے بھی بلند کیے گئے۔مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ طالبان کو ایک شدت پسند گروہ کے طور پر تسلیم کیا جائے اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر سخت اقدامات کیے جائیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے ساتھ تکنیکی یا سفارتی روابط کو بعض حلقے ان کی بین الاقوامی سطح پر قبولیت کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس پر مختلف ممالک میں بحث جاری ہے۔برازیل میں ہونے والا یہ احتجاج اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر طالبان پالیسیوں کے حوالے سے رائے عامہ منقسم ہونے کے بجائے زیادہ تر حلقوں میں شدید تنقید اور مخالفت پائی جاتی ہے۔