تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

پنجاب میں گندم خریداری نظام ناکام، نیا ماڈل متعارف کرانے کی تیاری

پنجاب میں گندم خریداری نظام ناکام، نیا ماڈل متعارف کرانے کی تیاری

لاہور( کامرس ڈیسک) پنجاب میں کسانوں سے گندم خریداری کے لیے متعارف کرایا گیا ایگریگیٹر سسٹم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکا، جس کے باعث حکومت کم از کم 15 لاکھ ٹن گندم خریداری کا ہدف پورا کرنے میں ناکام رہی۔رپورٹ کے مطابق فصل کی کٹائی کے فوری بعد گندم فروخت کرنے والے کسانوں کو بھی فی من 3 ہزار سے 3100 روپے تک قیمت ملی، جبکہ اوپن مارکیٹ میں بڑھتی قیمتوں کا فائدہ زیادہ تر گندم ذخیرہ کرنے والے بڑے کسانوں، بیوپاریوں اور اسٹاکسٹ کو حاصل ہوا۔موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ خوراک نے آئندہ گندم خریداری کے لیے نئے کثیر الجہتی نظام کی تیاری شروع کر دی ہے، جس میں ایگریگیٹرز کے ساتھ ای ڈبلیو آر سسٹم اور ایک نیا خریداری ماڈل بھی شامل کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق حکومت محکمہ خوراک پنجاب کو ختم کرنے کے بجائے اس کی تنظیم نو پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت محکمے کے نام، عہدوں، ذمہ داریوں اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔زرعی اور معاشی ماہرین کے مطابق پنجاب حکومت نے رواں سال گندم خریداری کے لیے 11 منتخب کمپنیوں یعنی ایگریگیٹرز کا تجربہ کیا، تاہم کمرشل بینکوں کے اعتراضات اور اضافی تقاضوں کے باعث خریداری کا عمل دو سے تین ہفتے تاخیر سے شروع ہوا۔ماہرین کے مطابق اس دوران مارکیٹ میں گندم کی قیمت سرکاری نرخ 3500 روپے سے تجاوز کر گئی، جبکہ گندم کی پیداوار میں کمی کی اطلاعات کے بعد بیوپاریوں، اسٹاکسٹ اور بڑے زمینداروں نے گندم ذخیرہ کرنا شروع کر دی تاکہ اسے زیادہ قیمت پر فروخت کیا جا سکے۔دوسری جانب سرکاری چیک پوسٹوں کے باوجود لاکھوں ٹن گندم سندھ اور خیبرپختونخوا منتقل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے باعث پنجاب کی اوپن مارکیٹ میں دباؤ بڑھ گیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کے اعلان کے باوجود مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی نہیں آ سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ گندم کی فصل آنے کے چند ماہ بعد ہی ملک کو درآمد کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔