تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

بھارتی خارجہ پالیسی پر تنقید، ایران اور اسرائیل کے معاملے میں مؤقف پر سوالات

بھارتی خارجہ پالیسی پر تنقید، ایران اور اسرائیل کے معاملے میں مؤقف پر سوالات

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور ایران سے متعلق صورتحال پر بھارت کے سفارتی مؤقف کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی میں مفادات کے مطابق تبدیلی کا رجحان نظر آتا ہے۔تفصیلات کے مطابق بعض رپورٹس اور تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے سے چند روز قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا، جبکہ جنگی صورتحال کے دوران ایران کے معاملے پر بھارت کی جانب سے واضح اور دوٹوک مؤقف سامنے نہیں آیا۔بھارتی خبر رساں ادارے ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق ایران پر حملوں کے دوران بھارت کو اسرائیل کے قریب سمجھا گیا، تاہم بعد ازاں توانائی اور تجارتی مفادات کے پیش نظر تہران کے ساتھ دوبارہ روابط میں بہتری کی کوششیں بھی دیکھی گئیں۔ اسی تناظر میں بھارتی قیادت اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطے میں تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری راستوں کی سلامتی اور تجارتی آزادی کو بھارت نے اپنے قومی اور معاشی مفاد کے طور پر اہم قرار دیا ہے، کیونکہ یہ خطہ عالمی توانائی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا مؤقف بنیادی طور پر تجارتی اور توانائی مفادات کے گرد گھومتا ہے، خاص طور پر تیل کی فراہمی اور سمندری راستوں کی حفاظت کے تناظر میں۔ اسی وجہ سے بعض مبصرین اسے سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے دوران بھارت نے کھل کر کسی ایک فریق کی مکمل حمایت یا مخالفت نہیں کی، جسے کچھ تجزیہ کار عملی سفارت کاری جبکہ کچھ حلقے مفاد پر مبنی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔اس پورے معاملے پر بین الاقوامی ماہرین کی رائے منقسم ہے اور مختلف زاویوں سے بھارت کی خارجہ پالیسی کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔