نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور ایران سے متعلق صورتحال پر بھارت کے سفارتی مؤقف کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی میں مفادات کے مطابق تبدیلی کا رجحان نظر آتا ہے۔تفصیلات کے مطابق بعض رپورٹس اور تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے سے چند روز قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا، جبکہ جنگی صورتحال کے دوران ایران کے معاملے پر بھارت کی جانب سے واضح اور دوٹوک مؤقف سامنے نہیں آیا۔بھارتی خبر رساں ادارے ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق ایران پر حملوں کے دوران بھارت کو اسرائیل کے قریب سمجھا گیا، تاہم بعد ازاں توانائی اور تجارتی مفادات کے پیش نظر تہران کے ساتھ دوبارہ روابط میں بہتری کی کوششیں بھی دیکھی گئیں۔ اسی تناظر میں بھارتی قیادت اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطے میں تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری راستوں کی سلامتی اور تجارتی آزادی کو بھارت نے اپنے قومی اور معاشی مفاد کے طور پر اہم قرار دیا ہے، کیونکہ یہ خطہ عالمی توانائی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا مؤقف بنیادی طور پر تجارتی اور توانائی مفادات کے گرد گھومتا ہے، خاص طور پر تیل کی فراہمی اور سمندری راستوں کی حفاظت کے تناظر میں۔ اسی وجہ سے بعض مبصرین اسے سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے دوران بھارت نے کھل کر کسی ایک فریق کی مکمل حمایت یا مخالفت نہیں کی، جسے کچھ تجزیہ کار عملی سفارت کاری جبکہ کچھ حلقے مفاد پر مبنی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔اس پورے معاملے پر بین الاقوامی ماہرین کی رائے منقسم ہے اور مختلف زاویوں سے بھارت کی خارجہ پالیسی کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
بھارتی خارجہ پالیسی پر تنقید، ایران اور اسرائیل کے معاملے میں مؤقف پر سوالات
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں