تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

رشیدہ طلیب کی اسرائیل کو 3.3 ارب ڈالر فوجی امداد روکنے کے بل کی حمایت کا اعلان

رشیدہ طلیب کی اسرائیل کو 3.3 ارب ڈالر فوجی امداد روکنے کے بل کی حمایت کا اعلان

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی کانگریس کی رکن رشیدہ طلیب نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو دی جانے والی تقریباً 3.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کے لیے پیش کیے گئے بل کی حمایت کریں گی۔ اس بل پر رواں ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ متوقع ہے۔فلسطینی نژاد امریکی رکن کانگریس رشیدہ طلیب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ امریکا کو ایسے فوجی ادارے پر مزید مالی وسائل خرچ نہیں کرنے چاہییں جس پر فلسطین میں نسل کشی، لبنان میں جبری بے دخلی اور ایران میں جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کی بڑی اکثریت، خصوصاً ڈیموکریٹک ووٹرز، اسرائیل کے لیے فوجی امداد کے خاتمے کے حق میں ہیں، اس لیے قانون سازی میں عوامی رائے کو شامل کیا جانا چاہیے۔رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کی دیگر نمایاں ارکان، جن میں الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، گریگ کیسر اور الہان عمر شامل ہیں، بھی اس بل کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں۔یہ بل ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے پیش کیا ہے، جو بیرونِ ملک امریکی فوجی مداخلتوں کے ناقد سمجھے جاتے ہیں اور ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت بھی کرتے رہے ہیں۔مزید رپورٹس کے مطابق تھامس میسی کو ماضی میں ریپبلکن پرائمری میں ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار کے مقابلے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں وہ اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔