تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

رشیدہ طلیب کی اسرائیل کو 3.3 ارب ڈالر فوجی امداد روکنے کے بل کی حمایت کا اعلان

رشیدہ طلیب کی اسرائیل کو 3.3 ارب ڈالر فوجی امداد روکنے کے بل کی حمایت کا اعلان

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی کانگریس کی رکن رشیدہ طلیب نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو دی جانے والی تقریباً 3.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کے لیے پیش کیے گئے بل کی حمایت کریں گی۔ اس بل پر رواں ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ متوقع ہے۔فلسطینی نژاد امریکی رکن کانگریس رشیدہ طلیب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ امریکا کو ایسے فوجی ادارے پر مزید مالی وسائل خرچ نہیں کرنے چاہییں جس پر فلسطین میں نسل کشی، لبنان میں جبری بے دخلی اور ایران میں جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کی بڑی اکثریت، خصوصاً ڈیموکریٹک ووٹرز، اسرائیل کے لیے فوجی امداد کے خاتمے کے حق میں ہیں، اس لیے قانون سازی میں عوامی رائے کو شامل کیا جانا چاہیے۔رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کی دیگر نمایاں ارکان، جن میں الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، گریگ کیسر اور الہان عمر شامل ہیں، بھی اس بل کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں۔یہ بل ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے پیش کیا ہے، جو بیرونِ ملک امریکی فوجی مداخلتوں کے ناقد سمجھے جاتے ہیں اور ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت بھی کرتے رہے ہیں۔مزید رپورٹس کے مطابق تھامس میسی کو ماضی میں ریپبلکن پرائمری میں ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار کے مقابلے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں وہ اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔