واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی کانگریس کی رکن رشیدہ طلیب نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو دی جانے والی تقریباً 3.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کے لیے پیش کیے گئے بل کی حمایت کریں گی۔ اس بل پر رواں ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ متوقع ہے۔فلسطینی نژاد امریکی رکن کانگریس رشیدہ طلیب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ امریکا کو ایسے فوجی ادارے پر مزید مالی وسائل خرچ نہیں کرنے چاہییں جس پر فلسطین میں نسل کشی، لبنان میں جبری بے دخلی اور ایران میں جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کی بڑی اکثریت، خصوصاً ڈیموکریٹک ووٹرز، اسرائیل کے لیے فوجی امداد کے خاتمے کے حق میں ہیں، اس لیے قانون سازی میں عوامی رائے کو شامل کیا جانا چاہیے۔رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کی دیگر نمایاں ارکان، جن میں الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، گریگ کیسر اور الہان عمر شامل ہیں، بھی اس بل کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں۔یہ بل ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے پیش کیا ہے، جو بیرونِ ملک امریکی فوجی مداخلتوں کے ناقد سمجھے جاتے ہیں اور ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت بھی کرتے رہے ہیں۔مزید رپورٹس کے مطابق تھامس میسی کو ماضی میں ریپبلکن پرائمری میں ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار کے مقابلے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں وہ اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
رشیدہ طلیب کی اسرائیل کو 3.3 ارب ڈالر فوجی امداد روکنے کے بل کی حمایت کا اعلان
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں