تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

رشیدہ طلیب کی اسرائیل کو 3.3 ارب ڈالر فوجی امداد روکنے کے بل کی حمایت کا اعلان

رشیدہ طلیب کی اسرائیل کو 3.3 ارب ڈالر فوجی امداد روکنے کے بل کی حمایت کا اعلان

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی کانگریس کی رکن رشیدہ طلیب نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو دی جانے والی تقریباً 3.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کے لیے پیش کیے گئے بل کی حمایت کریں گی۔ اس بل پر رواں ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ متوقع ہے۔فلسطینی نژاد امریکی رکن کانگریس رشیدہ طلیب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ امریکا کو ایسے فوجی ادارے پر مزید مالی وسائل خرچ نہیں کرنے چاہییں جس پر فلسطین میں نسل کشی، لبنان میں جبری بے دخلی اور ایران میں جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کی بڑی اکثریت، خصوصاً ڈیموکریٹک ووٹرز، اسرائیل کے لیے فوجی امداد کے خاتمے کے حق میں ہیں، اس لیے قانون سازی میں عوامی رائے کو شامل کیا جانا چاہیے۔رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کی دیگر نمایاں ارکان، جن میں الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، گریگ کیسر اور الہان عمر شامل ہیں، بھی اس بل کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں۔یہ بل ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے پیش کیا ہے، جو بیرونِ ملک امریکی فوجی مداخلتوں کے ناقد سمجھے جاتے ہیں اور ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت بھی کرتے رہے ہیں۔مزید رپورٹس کے مطابق تھامس میسی کو ماضی میں ریپبلکن پرائمری میں ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار کے مقابلے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں وہ اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔