تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

مذہبی اسکالر کے دعاؤں سے متعلق بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید

مذہبی اسکالر کے دعاؤں سے متعلق بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید

لاہور( شوبز ڈیسک)پاکستان کے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں مذہبی اسکالر ڈاکٹر علی وقار قادری کی دعاؤں سے متعلق گفتگو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آگئی، جہاں بعض صارفین نے ان کے الفاظ کو نامناسب قرار دیتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا۔نجی ٹی وی کے پروگرام ’’قطب آن لائن‘‘ میں میزبان بلال قطب سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر علی وقار قادری نے مسلمانوں کے صرف دعاؤں پر انحصار کرنے اور عملی اقدامات سے گریز کے رویے پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ مسلمان اللہ سے غزہ کی فتح، اسرائیل کی تباہی اور پاکستان سے بدعنوانی کے خاتمے کی دعائیں کرتے ہیں، لیکن جب خود کسی مشکل کا سامنا ہو تو امریکا کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔گفتگو کے دوران مذہبی اسکالر نے کہا کہ ’’اللہ ہماری ان دعاؤں پر ہنستا ہوگا‘‘۔ تاہم انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، کتاب، زندگی گزارنے کے اصول اور درست راستہ عطا کیا ہے، اس لیے دعا کے ساتھ عملی کوشش بھی ضروری ہے۔انہوں نے صحابہ کرامؓ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ عبادت اور دعا کے ساتھ میدانِ عمل میں بھی موجود رہتے تھے اور عملی جدوجہد کرتے تھے۔تاہم ڈاکٹر علی وقار قادری کی جانب سے اللہ تعالیٰ کے لیے ’’ہنسنے‘‘ کے الفاظ استعمال کرنے پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔بعض صارفین نے پروگرام میں موجود دیگر افراد کے ردعمل پر بھی اعتراض کیا اور گفتگو کے دوران ہنسنے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے مذہبی حساسیت کا خیال رکھنے پر زور دیا۔