تازہ ترین
ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کا مذاکرات کا مطا لبہ الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی وفاقی آئینی عدالت کے اہم فیصلے، حارث اسٹیل ملز ریفرنس پر نیب کو نوٹس صدر زرداری نے تین اہم سمریوں کی منظوری دے دی امریکا کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ، بندر عباس سمیت اہم عسکری تنصیبات نشانے پر ایران کا کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ میانمار کے قریب دو کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی ہلاکت کا خدشہ برطانیہ میں 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج پاکستان، ترکیہ بزنس کانفرنس میں سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کے رعایتی آئل فنانسنگ پیکیج کی درخواست سیاسی بینر لہرانے پر ارجنٹائن کو فیفا کارروائی کا سامنا متو قع واشنگٹن فریڈم نے ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کر لیا ماڈل ہما سلیم کا نامعلوم کرکٹر پر ہراسانی کا الزام، قانونی کارروائی کا اعلان مفتی عبدالقوی کا خود کو ’ٹھرکی‘ قرار دینے کا بیان وائرل یوٹیوب نے کم معیار کے مواد پر مونیٹائزیشن سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا شدید شمسی طوفان ٹیکنالوجی اور مواصلاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ قرار
پاکستان خبر

بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے مسلسل حادثات، جنگی تیاریوں پر سوالات اٹھ گئے

بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے مسلسل حادثات، جنگی تیاریوں پر سوالات اٹھ گئے

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) نئی دہلی میں بھارتی فضائیہ کے جنگی طیاروں کے بار بار پیش آنے والے حادثات نے عالمی سطح پر تشویش اور تنقید کو جنم دیا ہے۔بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق آسام کے ضلع جوروہاٹ میں بھارتی فضائیہ کا طیارہ اے این-32 حادثے کا شکار ہو گیا، اور ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لینڈنگ کے بعد طیارے میں آگ بھڑک اٹھی۔رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ نے بھی اس حادثے کی تصدیق کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک بھارتی فضائیہ کے 11 جنگی طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق مسلسل حادثات بھارتی فضائیہ کی تیاریوں اور تکنیکی صلاحیتوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں، جبکہ ان واقعات سے اس کی اندرونی انتظامی اور تکنیکی کمزوریوں کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار ہونے والے یہ حادثات نہ صرف دفاعی نظام کے لیے تشویشناک ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ پر بھی اثر ڈال رہے ہیں۔