تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

افغانستان میں تعلیم سے محروم لڑکیوں کے لیے روانڈا میں اسکول کھل گیا

افغانستان میں تعلیم سے محروم لڑکیوں کے لیے روانڈا میں اسکول کھل گیا

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک)طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نوعمر لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی عائد ہے۔ تاہم کچھ لوگ افغانستان سے باہر رہتے ہوئے بھی افغان لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔اسی سلسلے میں روانڈا میں افغان لڑکیوں کے لیے قائم ایک اسکول دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اسکول کی سربراہ شبانہ بسیج راشیخ نے اس اقدام پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کوشش پر بہت شکر گزار ہیں۔شبانہ بسیج راشیخ کے مطابق 2021 میں جب طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھالا تو لاکھوں لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کے امکانات ختم ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسکول کے طلبہ، والدین اور عملے کو ممکنہ خطرے سے بچانے کے لیے سب سے پہلے اسکول کا تمام ریکارڈ جلا دیا گیا۔انہوں نے اسکول کی ویب سائٹ پر لکھا کہ طالب علموں کے نام، ان کی کہانیاں اور شناخت سے متعلق تمام معلومات ختم کردی گئیں تاکہ طالبان ان کا سراغ نہ لگا سکیں۔سولا اسکول، جسے اسکول آف لیڈرشپ افغانستان بھی کہا جاتا ہے، اس وقت افغانستان میں لڑکیوں کے لیے واحد رہائشی اسکول تھا۔ تاہم اسکول کی سربراہ شبانہ بسیج راشیخ سمیت سینکڑوں طالب علموں میں سے بہت سے اب افغانستان چھوڑ چکے ہیں۔