تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

افغانستان میں تعلیم سے محروم لڑکیوں کے لیے روانڈا میں اسکول کھل گیا

افغانستان میں تعلیم سے محروم لڑکیوں کے لیے روانڈا میں اسکول کھل گیا

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک)طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نوعمر لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی عائد ہے۔ تاہم کچھ لوگ افغانستان سے باہر رہتے ہوئے بھی افغان لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔اسی سلسلے میں روانڈا میں افغان لڑکیوں کے لیے قائم ایک اسکول دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اسکول کی سربراہ شبانہ بسیج راشیخ نے اس اقدام پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کوشش پر بہت شکر گزار ہیں۔شبانہ بسیج راشیخ کے مطابق 2021 میں جب طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھالا تو لاکھوں لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کے امکانات ختم ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسکول کے طلبہ، والدین اور عملے کو ممکنہ خطرے سے بچانے کے لیے سب سے پہلے اسکول کا تمام ریکارڈ جلا دیا گیا۔انہوں نے اسکول کی ویب سائٹ پر لکھا کہ طالب علموں کے نام، ان کی کہانیاں اور شناخت سے متعلق تمام معلومات ختم کردی گئیں تاکہ طالبان ان کا سراغ نہ لگا سکیں۔سولا اسکول، جسے اسکول آف لیڈرشپ افغانستان بھی کہا جاتا ہے، اس وقت افغانستان میں لڑکیوں کے لیے واحد رہائشی اسکول تھا۔ تاہم اسکول کی سربراہ شبانہ بسیج راشیخ سمیت سینکڑوں طالب علموں میں سے بہت سے اب افغانستان چھوڑ چکے ہیں۔