کراچی( شو بزڈیسک) ماضی میں متعدد ڈراموں میں اداکاری کرنے والی معروف اداکارہ و میزبان سعدیہ امام نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز کیریئر کے دوران انہیں قریبی مرد ساتھیوں اور دوستوں کی جانب سے دھوکا دہی اور نظراندازی کا سامنا کرنا پڑا۔نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے سعدیہ امام نے بتایا کہ جب انہوں نے شوبز میں قدم رکھا تو خواتین فنکاروں کی تعداد بہت کم تھی۔ انڈسٹری میں زیادہ تر سینئر یا بالکل نئی اداکارائیں تھیں، جبکہ ان کی ہم عمر اور ہم پلہ فنکار بہت کم تھیں۔انہوں نے کہا کہ اس دور میں ان کے زیادہ تر ساتھی مرد تھے اور انہی میں سے بعض قریبی دوستوں نے انہیں دھوکا دیا، بعض مواقع پر پیٹھ پیچھے نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور ان کے خلاف باتیں کیں۔سعدیہ امام نے بتایا کہ ان کے والد ہمیشہ مشورہ دیتے تھے کہ جعلی دوست رکھنے سے بہتر ہے انسان اکیلا رہے، تاہم اس وقت وہ اس نصیحت کی اہمیت نہیں سمجھ پاتی تھیں کیونکہ انہیں لوگوں کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے ان تجربات سے بہت کچھ سیکھا اور مشکل دور بھی گزر گیا۔اداکارہ کے مطابق کئی مرتبہ انہوں نے اپنے مرد ساتھیوں کو خود اپنے بارے میں گفتگو کرتے سنا۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ سعدیہ امام کو کسی منصوبے میں شامل نہ کیا جائے کیونکہ وہ ’’پارٹی گرل‘‘ نہیں اور شوٹنگ کے دوران زیادہ گھلتی ملتی نہیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں ڈراموں کی شوٹنگ کے لیے بیرون ملک بھی جانا پڑتا تھا اور بعض ساتھیوں کو ان کے طرزِ زندگی اور رویے سے اختلاف تھا۔ کچھ لوگ ایسی لڑکیوں کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے جو ان کے ساتھ زیادہ دوستانہ ہوں، جس کے باعث انہیں بعض منصوبوں سے نکال دیا گیا یا ثانوی نوعیت کے کردار دیے گئے۔سعدیہ امام نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ تکلیف ان لوگوں کے رویے سے ہوئی جو ان کے انتہائی قریبی ساتھی تھے، ان کے گھر آتے جاتے، ساتھ کھانا کھاتے اور وقت گزارتے تھے، مگر پس پردہ ان کے خلاف باتیں کرتے رہے۔