راولپنڈی( سپورٹس ڈیسک) پاکستان کے مڈل آرڈر بلے باز سلمان علی آغا نے سری لنکا کے خلاف سہ ملکی ون ڈے سیریز کے افتتاحی میچ میں سنچری بنانے کے بعد منفرد انداز میں جشن منانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا یہ انداز صرف اپنے بیٹے کے لیے تھا۔ انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کو مزید عزت اور اہمیت دینے پر بھی زور دیا۔اتوار کو کھیلے گئے سیریز کے پہلے ون ڈے میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دی۔ پاکستان کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 49.5 اوورز میں 305 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، جبکہ سلمان علی آغا نے 90 گیندوں پر 107 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ یہ ان کے ون ڈے کیریئر کی چوتھی سنچری تھی۔306 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکا کی پوری ٹیم 48.1 اوورز میں 268 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ ان کے لیے تینوں فارمیٹس میں کارکردگی دکھانا اہم ہے، تاہم خوش قسمتی سے ون ڈے کرکٹ میں ان کی کارکردگی زیادہ بہتر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تینوں فارمیٹس میں ان کی بیٹنگ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی۔ انہیں کسی کو کچھ ثابت کرنا ہے اور نہ ہی کسی کو جواب دینا ہے، کیونکہ انہیں کرکٹ سے محبت ہے اور پاکستان کی نمائندگی کرنا اچھا لگتا ہے۔سنچری کا جشن صرف بیٹے کے لیے تھااپنے منفرد انداز میں جشن منانے کی وضاحت کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ سنچری کے بعد ان کا جشن صرف اپنے بیٹے کے لیے تھا، جو ٹیلی ویژن پر کرکٹ دیکھتا ہے اور اسی انداز میں خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ان کے مطابق، اس عمل کا مقصد کسی کو پیغام دینا یا کسی کو غلط ثابت کرنا نہیں تھا۔ڈومیسٹک کرکٹ کو عزت دینے کی ضرورت ہےسلمان علی آغا نے ملکی کرکٹ کے ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کو وہ عزت نہیں دی جاتی جس کی وہ مستحق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک سطح پر رنز بنانا آسان نہیں، بلکہ اس کے لیے مہارت، محنت اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر بھی بہتر کھیل پیش کرسکتے ہیں، اس لیے ملکی کرکٹ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو عزت دینی چاہیے۔مشکل دور کے بعد فارم میں واپسیسلمان علی آغا نے اعتراف کیا کہ گزشتہ تین ٹیسٹ میچز ان کے لیے اچھے نہیں رہے، تاہم وہ گزشتہ چار سال سے کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، بین الاقوامی کرکٹ میں فارم واپس حاصل کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔واضح رہے کہ انگلینڈ کے دورے کے دوران سلمان علی آغا نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی قیادت کی تھی، تاہم انہیں دوسرے ٹیسٹ میں ٹیم سے باہر کردیا گیا۔ تیسرے ٹیسٹ سے قبل اسکواڈ میں بڑی تبدیلیوں کے دوران انہیں بھی سات دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔دورۂ انگلینڈ کے بعد سلمان آغا نے پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون میں کنگز مین اکیڈمی کی نمائندگی کی اور پانچ میچز کھیلے۔ انہوں نے اپنے پہلے ہی میچ میں ناقابلِ شکست 300 رنز بنا کر توجہ حاصل کی۔بعدازاں انہیں پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ٹیم کی کپتانی سے ہٹا کر صاحبزادہ فرحان کو کپتان مقرر کیا گیا۔ سلمان آغا کو سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کے لیے بھی قومی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا، جس میں پاکستان نے 2-1 سے کامیابی حاصل کی۔سری لنکا کے خلاف ون ڈے میں سنچری سلمان علی آغا کے لیے اہم پیش رفت ہے، جس کے ذریعے انہوں نے ایک مشکل دور کے بعد اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔