تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

ایس ایم ایز فنانسنگ ڈیڑھ کھرب روپے تک بڑھانے کا اسٹیٹ بینک کا ہدف

ایس ایم ایز فنانسنگ ڈیڑھ کھرب روپے تک بڑھانے کا اسٹیٹ بینک کا ہدف

کراچی( کامرس ڈیسک)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 2028 تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے قرضوں کی فراہمی کو ڈیڑھ کھرب روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر لیا ہے، جبکہ ایس ایم ای قرض لینے والے کاروباری افراد کی تعداد ساڑھے 7 لاکھ تک پہنچانے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت اور کم لاگت رہائش جیسے اہم شعبوں کو مالی سہولیات فراہم کرنا بینکاری شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہونے کے ساتھ ساتھ اہم موقع بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ایسا مضبوط بینکاری نظام ضروری ہے جو پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے اور کاروباری سرگرمیوں کو سہارا فراہم کرے۔گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق زراعت، ایس ایم ایز اور کم لاگت رہائش روزگار کے مواقع، برآمدات میں اضافے اور معاشی استحکام کے اہم ستون ہیں، تاہم ان شعبوں کو اب بھی مناسب مالی وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جون 2021 سے دسمبر 2025 کے دوران ایس ایم ای فنانسنگ کا حجم دو گنا سے زیادہ بڑھ چکا ہے، جبکہ قرض حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کی تعداد میں تقریباً 75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔جمیل احمد نے ان پیش رفتوں کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب بینکوں کو جدید طریقہ کار اور نئی حکمت عملی کے ذریعے ایس ایم ای شعبے میں مزید وسعت پیدا کرنا ہوگی۔بینک آف پنجاب کے صدر و چیف ایگزیکٹو افسر اور چیئرمین پاکستان بینکس ایسوسی ایشن ظفر مسعود نے کہا کہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ کاروباروں کا غیر دستاویزی ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک کاروبار رجسٹرڈ نہیں ہوں گے اور ٹیکس نظام میں شامل نہیں ہوں گے، بینک ان کی مالی صورتحال کا درست جائزہ لے کر قرض فراہم نہیں کر سکیں گے۔ظفر مسعود کے مطابق اسٹیٹ بینک کی نئی حکمت عملی کے تحت صرف مخصوص شعبوں کے لیے قرض دینے کے طریقہ کار پر انحصار کم کیا جا رہا ہے، جبکہ ایسا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں ضابطہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل سہولیات، خطرات میں شراکت داری اور صلاحیت سازی کو فروغ دیا جائے گا۔