تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: خواتین کے وراثتی حقوق بحال، 71 سال بعد حق دینے کا حکم

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: خواتین کے وراثتی حقوق بحال، 71 سال بعد حق دینے کا حکم

اسلام آباد( پاکستان خبر) سپریم کورٹ نے خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے بہنوں اور والدہ کو وراثتی جائیداد میں ان کا قانونی و شرعی حصہ دینے کا حکم دے دیا ہے، جو 71 سال بعد ان کے حق میں بحال کیا گیا۔13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا، جبکہ کیس کی سماعت سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں ہوئی۔عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائیکورٹ کے تمام سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ صرف ریاست ہی نہیں بلکہ سول سوسائٹی، علما، ریونیو حکام اور قانونی ماہرین کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ اس حق کی کسی بھی صورت پامالی نہ ہو۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وراثت خواتین کا شرعی اور قانونی حق ہے اور انہیں اس حق سے محروم رکھنا غیر آئینی اور غیر اسلامی عمل کے زمرے میں آتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جعلی ہبہ، فراڈ یا خاندانی دباؤ کے ذریعے خواتین کے وراثتی حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، اور ایسے معاملات میں عدلیہ کو ہمیشہ مکمل طور پر چوکس رہنا چاہیے۔فیصلے کے مطابق 1955 میں والد کے انتقال کے بعد دو بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کروا لی تھی اور زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو ان کے حصے سے محروم رکھا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ نچلی عدالتوں نے بارِ ثبوت کا درست جائزہ لینے کے بجائے زبانی ہبہ کو ہی بطور ثبوت تسلیم کر لیا، جبکہ ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے حقائق اور قانون سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔مزید کہا گیا کہ اگرچہ ہائیکورٹ نے یہ مؤقف اپنایا تھا کہ مبینہ زبانی ہبہ کو طویل عرصے تک چیلنج نہیں کیا گیا، تاہم اس کے باوجود اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری اس فریق پر عائد ہوتی ہے جس نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ کئی برس تک والدہ اور بہنوں کو زمین کی آمدن میں حصہ دیا جاتا رہا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہیں مبینہ ہبہ کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔اس بنیاد پر سپریم کورٹ نے خواتین کے وراثتی حقوق بحال کرتے ہوئے انہیں جائیداد میں ان کا جائز اور قانونی حصہ دینے کا حتمی حکم جاری کر دیا ہے۔