تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: خواتین کے وراثتی حقوق بحال، 71 سال بعد حق دینے کا حکم

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: خواتین کے وراثتی حقوق بحال، 71 سال بعد حق دینے کا حکم

اسلام آباد( پاکستان خبر) سپریم کورٹ نے خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے بہنوں اور والدہ کو وراثتی جائیداد میں ان کا قانونی و شرعی حصہ دینے کا حکم دے دیا ہے، جو 71 سال بعد ان کے حق میں بحال کیا گیا۔13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا، جبکہ کیس کی سماعت سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں ہوئی۔عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائیکورٹ کے تمام سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ صرف ریاست ہی نہیں بلکہ سول سوسائٹی، علما، ریونیو حکام اور قانونی ماہرین کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ اس حق کی کسی بھی صورت پامالی نہ ہو۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وراثت خواتین کا شرعی اور قانونی حق ہے اور انہیں اس حق سے محروم رکھنا غیر آئینی اور غیر اسلامی عمل کے زمرے میں آتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جعلی ہبہ، فراڈ یا خاندانی دباؤ کے ذریعے خواتین کے وراثتی حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، اور ایسے معاملات میں عدلیہ کو ہمیشہ مکمل طور پر چوکس رہنا چاہیے۔فیصلے کے مطابق 1955 میں والد کے انتقال کے بعد دو بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کروا لی تھی اور زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو ان کے حصے سے محروم رکھا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ نچلی عدالتوں نے بارِ ثبوت کا درست جائزہ لینے کے بجائے زبانی ہبہ کو ہی بطور ثبوت تسلیم کر لیا، جبکہ ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے حقائق اور قانون سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔مزید کہا گیا کہ اگرچہ ہائیکورٹ نے یہ مؤقف اپنایا تھا کہ مبینہ زبانی ہبہ کو طویل عرصے تک چیلنج نہیں کیا گیا، تاہم اس کے باوجود اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری اس فریق پر عائد ہوتی ہے جس نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ کئی برس تک والدہ اور بہنوں کو زمین کی آمدن میں حصہ دیا جاتا رہا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہیں مبینہ ہبہ کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔اس بنیاد پر سپریم کورٹ نے خواتین کے وراثتی حقوق بحال کرتے ہوئے انہیں جائیداد میں ان کا جائز اور قانونی حصہ دینے کا حتمی حکم جاری کر دیا ہے۔