نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش کی مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ رواں سال اپنے ملک واپس آئیں گی، حالانکہ چند ماہ قبل انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔78 سالہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں اس وقت بھارت فرار ہو گئی تھیں جب طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک نے ان کے 15 سالہ سخت گیر دورِ حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔بھارتی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ موت سے نہیں ڈرتیں اور ان کے خلاف دیا گیا فیصلہ غیر قانونی، غیر آئینی اور سیاسی نوعیت کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کئی سازشیں کی گئیں، تاہم وہ ہر بار انہیں بے نقاب کرتے ہوئے عوام کے ووٹ سے پانچ مرتبہ وزیرِاعظم منتخب ہوئیں اور ملک کی ترقی کے لیے کام کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام رکاوٹوں اور سازشوں کے باوجود اسی سال بنگلہ دیش واپس جائیں گی۔گزشتہ برس نومبر میں ڈھاکہ کی ایک عدالت نے انہیں اشتعال انگیزی، قتل کے احکامات دینے اور مظالم روکنے میں ناکامی کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ان کی جماعت عوامی لیگ پر بھی پابندی عائد ہے، جو ماضی میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی تھی۔ فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد بنگلہ دیش میں سیاسی صورتحال میں تبدیلی آئی، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔تاہم بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کشیدگی اب بھی برقرار ہے، کیونکہ ڈھاکہ حکومت مسلسل شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔