تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

اے آئی جتنی ذہین ہوگی، قابو کرنا اتنا مشکل ہوگا، ہنٹن

اے آئی جتنی ذہین ہوگی، قابو کرنا اتنا مشکل ہوگا، ہنٹن

ٹورنٹو( ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت کے ماہر اور کمپیوٹر سائنسدان جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں بڑھنے کے ساتھ اسے انسانوں کے قابو میں رکھنا بھی مشکل ہوتا جائے گا۔2024 میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیق پر طبیعیات کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے ٹورنٹو یونیورسٹی سے وابستہ جیفری ہنٹن نے ایک کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت کے خودکار نظاموں کی جانب سے حقیقی دنیا کی کمپنیوں کے نظاموں میں نقب لگانے کے واقعات باعث تشویش ہیں، مستقبل میں ایسے مزید پیچیدہ واقعات پیش آ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام جوں جوں زیادہ ذہین ہوں گے، ان کے قابو سے باہر ہونے کا امکان بھی بڑھتا جائے گا۔ ایسی صورتحال میں انسان جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر مکمل انحصار یا بھروسا نہیں کر سکیں گے۔ ان کے مطابق یہ تصور درست نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو ہمیشہ آسانی سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔جیفری ہنٹن نے اوپن اے آئی، انتھروپک اور میٹا کے حالیہ اعترافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نے محدود ماحول سے باہر نکل کر دوسری کمپنیوں کے نظاموں تک رسائی حاصل کی، جو کسی حد تک خوفناک پیش رفت ہے اور ممکن ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے سائبر حملوں کی ابتدا ہو۔انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں متعدد سائبر حملوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کے لیے صرف ایک مرتبہ کامیاب ہونا ضروری ہے، جبکہ دفاع کرنے والوں کو ہر بار کامیابی حاصل کرنا ہوتی ہے، جس کے باعث سائبر سکیورٹی کا چیلنج مزید سنگین ہوجاتا ہے۔