تازہ ترین
پاکستان سعودی دفاعی تعاون جاری، معاہدے پر عمل میں وقت لگے گا اسحاق ڈار کی حاقان فیدان سے گفتگو، فلسطین پر اتفاق بلوچستان میں 25 لیڈی میڈیکل افسران ملازمت سے برطرف جنگ ستمبر، پاک فوج کی جوابی کارروائی سے بھارتی فوج پسپا یمنی سفیر کا ایران پر حوثیوں کو استعمال کرنے کا الزام پاکستان کا ایران سے حوثیوں کے حملے رکوانے کا مطالبہ ایران جنگ 2029 تک جاری رہنے کا خدشہ، امریکی میڈیا حوثیوں نے بحیرہ احمر کے اہم ساحلی شہر موخا پر قبضہ کرلیا وزیراعظم نے آٹو پالیسی 2026 کی منظوری دے دی اسٹاک مارکیٹ میں مندی، 100 انڈیکس 170 ہزار کی سطح سے نیچے صرف ستمبر میں پٹرول 28 اور ڈیزل 22 روپے فی لٹر مہنگا ہوا: رپورٹ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوگیا این سی سی آئی اے نے امام الحق اور رضوان کو طلب کرلیا فیفا آسیان کپ، پاکستان گروپ بی میں تھائی لینڈ سے مقابلہ کرے گا سابق پاکستانی آل راؤنڈر انور علی کو امریکی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر سیف گیمز کی میزبانی، کھیلوں کے مراکز کیلئے 5.7 ارب منظور
پاکستان خبر

اے آئی جتنی ذہین ہوگی، قابو کرنا اتنا مشکل ہوگا، ہنٹن

اے آئی جتنی ذہین ہوگی، قابو کرنا اتنا مشکل ہوگا، ہنٹن

ٹورنٹو( ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت کے ماہر اور کمپیوٹر سائنسدان جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں بڑھنے کے ساتھ اسے انسانوں کے قابو میں رکھنا بھی مشکل ہوتا جائے گا۔2024 میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیق پر طبیعیات کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے ٹورنٹو یونیورسٹی سے وابستہ جیفری ہنٹن نے ایک کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت کے خودکار نظاموں کی جانب سے حقیقی دنیا کی کمپنیوں کے نظاموں میں نقب لگانے کے واقعات باعث تشویش ہیں، مستقبل میں ایسے مزید پیچیدہ واقعات پیش آ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام جوں جوں زیادہ ذہین ہوں گے، ان کے قابو سے باہر ہونے کا امکان بھی بڑھتا جائے گا۔ ایسی صورتحال میں انسان جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر مکمل انحصار یا بھروسا نہیں کر سکیں گے۔ ان کے مطابق یہ تصور درست نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو ہمیشہ آسانی سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔جیفری ہنٹن نے اوپن اے آئی، انتھروپک اور میٹا کے حالیہ اعترافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نے محدود ماحول سے باہر نکل کر دوسری کمپنیوں کے نظاموں تک رسائی حاصل کی، جو کسی حد تک خوفناک پیش رفت ہے اور ممکن ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے سائبر حملوں کی ابتدا ہو۔انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں متعدد سائبر حملوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کے لیے صرف ایک مرتبہ کامیاب ہونا ضروری ہے، جبکہ دفاع کرنے والوں کو ہر بار کامیابی حاصل کرنا ہوتی ہے، جس کے باعث سائبر سکیورٹی کا چیلنج مزید سنگین ہوجاتا ہے۔