تازہ ترین
صدر مملکت اور وزیر اعظم کا کیپٹن محمد سرور شہید کے 78 ویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کوٹلی میں انتخابی خلاف ورزی، دو پریزائیڈنگ افسران گرفتار فتنہ الہندوستان کے گرفتار دہشت گرد کے سنسنی خیز انکشافات رہائی تحریک پر سہیل آفریدی کا آئینی عدالت میں جواب جمع ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ملائیشیا کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا مؤقف برقرار یائر گولن کی نیتن یاہو پر تنقید، فوجیوں کو خطرات کا ذمہ دار قرار دے دیا بدخشان میں جھڑپیں، طالبان کے کنٹرول کے دعوؤں پر سوالات پنجاب میں گندم خریداری نظام ناکام، نیا ماڈل متعارف کرانے کی تیاری اسٹیٹ بینک کا اہم اجلاس، شرح سود کے تعین کا فیصلہ آج ہوگا پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 60 روپے تک اضافہ یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ، پاکستان کیلئے محتاط جائزہ پاکستان کی محتاط بیٹنگ، ویسٹ انڈیز کے خلاف پوزیشن مضبوط پاکستان، جنوبی کوریا ہاکی ٹیسٹ سیریز کا شیڈول جاری ابھیشیک شرما کی بیٹنگ ناکام، بولنگ میں شاندار کارکردگی پاکستان انڈر 21 ہاکی ٹیم عمان ٹیسٹ سیریز کیلئے روانہ
پاکستان خبر

رہائی تحریک پر سہیل آفریدی کا آئینی عدالت میں جواب جمع

رہائی تحریک پر سہیل آفریدی کا آئینی عدالت میں جواب جمع

اسلام آباد( پاکستان خبر) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہائی فورس سے متعلق وفاقی آئینی عدالت میں اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔8 صفحات پر مشتمل جواب ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے ذریعے عدالت میں جمع کرایا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کے نام سے کوئی تنظیم یا فورس کبھی قائم نہیں ہوئی، بلکہ اصل اقدام بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ایک پُرامن تحریک ہے جو غیر مسلح اور رضاکارانہ بنیادوں پر جاری ہے۔جواب میں کہا گیا ہے کہ رہائی امن تحریک میں کسی قسم کے مسلح ڈھانچے یا نجی ملیشیا کا کوئی وجود نہیں۔ درخواست سیاسی مقاصد اور غلط حقائق پر مبنی ہے، جبکہ اسے قبل از وقت، فرضی اور ناقابلِ سماعت قرار دیا گیا ہے۔ جواب میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔سہیل آفریدی نے اپنے مؤقف میں کہا کہ رہائی تحریک کو آئین کے آرٹیکل 16، 17 اور 19 کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ آئین کا آرٹیکل 256 اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتا، جبکہ نجی فوجی تنظیموں سے متعلق قانون 1973 کا بھی اس تحریک پر اطلاق نہیں بنتا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ امن عامہ کو خطرے سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں اور رہائی تحریک کا ماضی کی مسلح تنظیموں سے موازنہ کرنا گمراہ کن ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آئینی درخواست کو ابتدائی مرحلے پر خارج کیا جائے اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے جاری پُرامن تحریک کو آئینی و قانونی قرار دیا جائے۔واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 29 جولائی کو مقرر کر رکھی ہے۔