اسلام آباد( پاکستان خبر) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہائی فورس سے متعلق وفاقی آئینی عدالت میں اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔8 صفحات پر مشتمل جواب ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے ذریعے عدالت میں جمع کرایا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کے نام سے کوئی تنظیم یا فورس کبھی قائم نہیں ہوئی، بلکہ اصل اقدام بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ایک پُرامن تحریک ہے جو غیر مسلح اور رضاکارانہ بنیادوں پر جاری ہے۔جواب میں کہا گیا ہے کہ رہائی امن تحریک میں کسی قسم کے مسلح ڈھانچے یا نجی ملیشیا کا کوئی وجود نہیں۔ درخواست سیاسی مقاصد اور غلط حقائق پر مبنی ہے، جبکہ اسے قبل از وقت، فرضی اور ناقابلِ سماعت قرار دیا گیا ہے۔ جواب میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔سہیل آفریدی نے اپنے مؤقف میں کہا کہ رہائی تحریک کو آئین کے آرٹیکل 16، 17 اور 19 کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ آئین کا آرٹیکل 256 اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتا، جبکہ نجی فوجی تنظیموں سے متعلق قانون 1973 کا بھی اس تحریک پر اطلاق نہیں بنتا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ امن عامہ کو خطرے سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں اور رہائی تحریک کا ماضی کی مسلح تنظیموں سے موازنہ کرنا گمراہ کن ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آئینی درخواست کو ابتدائی مرحلے پر خارج کیا جائے اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے جاری پُرامن تحریک کو آئینی و قانونی قرار دیا جائے۔واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 29 جولائی کو مقرر کر رکھی ہے۔