کراچی( شوبز ڈیسک) اداکار سہیل سمیر نے اپنی مختصر فلم ’دوسری عورت‘ کے قابل اعتراض مناظر پر تفصیلی معذرت کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ یہ تقریباً 10 سال پرانے مناظر ہیں، جن کی کچھ جھلکیاں دوبارہ سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں۔سہیل سمیر نے کہا کہ یہ کلپ تقریباً ایک دہائی قبل بنائے گئے منصوبے کا حصہ تھا۔ ان کے مطابق یہ ایک مختصر فلم تھی اور اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ماضی میں کیا گیا کوئی کام مستقبل میں اس طرح دوبارہ منظرعام پر آسکتا ہے۔اداکار نے اعتراف کیا کہ انہیں ایسے مواد میں کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اگر اسی نوعیت کا مواد ان کے اپنے خاندان کے کسی فرد سے متعلق سامنے آتا تو وہ کس طرح محسوس کرتے۔سہیل سمیر نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عوام سے معافی مانگی اور درخواست کی کہ انہیں صرف ماضی کی ایک غلطی کی بنیاد پر نہ پرکھا جائے، بلکہ ایسے شخص کے طور پر دیکھا جائے جو اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کررہا ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل سہیل سمیر کی سسپنس اور سنسنی خیز مختصر فلم ’دوسری عورت‘ کا ایک پرانا کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا تھا۔کلپ میں اداکار ایک خاتون کردار کے ساتھ انتہائی قریب اور رومانوی انداز میں دکھائی دیتے ہیں، جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ سہیل سمیر ٹی وی پروگرامز میں اخلاقیات اور معاشرتی اقدار پر گفتگو کرتے ہیں، تاہم ان کے ماضی کے اس منصوبے میں اس نوعیت کا منظر موجود ہے۔ بعض صارفین نے ایسے مواد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔