تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

خلا میں ڈیٹا سینٹرز کا منصوبہ، ٹیکنالوجی کے نئے دور کے ساتھ ماحولیاتی خدشات بھی بڑھ گئے

خلا میں ڈیٹا سینٹرز کا منصوبہ، ٹیکنالوجی کے نئے دور کے ساتھ ماحولیاتی خدشات بھی بڑھ گئے

لاہور( ویب ڈیسک) خلائی ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی نے انسان کے لیے کائنات کے نئے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔ اب خلا صرف سائنسی تحقیق، سیاروں کی تلاش اور مصنوعی سیاروں کی تنصیب تک محدود نہیں رہا بلکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اسے مستقبل کے ڈیجیٹل نظام کا اہم مرکز بنانے پر بھی غور کر رہی ہیں۔اسی سلسلے میں ارب پتی کاروباری شخصیات ایلون مسک اور جیف بیزوس کی جانب سے خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے تصور نے دنیا بھر میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خلائی ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا اسٹوریج کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکتے ہیں، جبکہ زمین پر توانائی کے استعمال اور حرارتی اخراج میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔دوسری جانب ماحولیات کے ماہرین اور خلائی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ مناسب منصوبہ بندی کے بغیر اس منصوبے پر عمل درآمد سے راکٹ لانچز میں اضافہ، خلائی ملبے کا پھیلاؤ، کاربن اخراج اور ماحولیاتی نقصانات جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اور جیف بیزوس کی کمپنی بلیو اوریجن ان اداروں میں شامل ہیں جو خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے امکانات پر کام کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کے مطابق خلا میں موجود ڈیٹا مراکز کو شمسی توانائی کے وافر حصول، کم اخراجات اور بہتر کارکردگی جیسے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔تاہم ماہرین کی ایک بڑی تعداد ان دعوؤں سے مکمل اتفاق نہیں کرتی۔ ارتھ جسٹس کی نمائندگی کرنے والے سائنسدانوں کے ایک گروپ نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے پہلے اس کے ماحولیاتی اثرات کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بڑی تعداد میں مصنوعی سیارے زمین کے مدار میں بھیجے گئے تو اس سے ماحول، جنگلی حیات اور رات کے قدرتی آسمان پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق خلائی ملبہ اور آلودگی مستقبل میں سنگین چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ماحولیاتی ادارے کے ایک عہدیدار ٹم وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ بغیر ماحولیاتی جائزے کے ایسے منصوبوں کی اجازت دینا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا، کیونکہ ان سے پیدا ہونے والے ممکنہ نقصانات پر پہلے ہی غور کرنا ضروری ہے۔حالیہ برسوں میں خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضروریات ہیں۔ جیف بیزوس نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 10 سے 20 برسوں میں خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایلون مسک بھی اسپیس ایکس کے ذریعے اس تصور کو عملی شکل دینے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔