تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں پر طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیا

بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں پر طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیا

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں تعلیمی نظام، سرکاری بھرتیوں میں مبینہ بے قاعدگیوں اور امتحانات میں شفافیت کے فقدان کے خلاف طلبہ کا احتجاج مزید شدت اختیار کرگیا۔ ریاست بہار میں سول سروسز کے امیدوار اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔بھارتی جریدے دکن ہیرالڈ کے مطابق طلبہ ایک عرصے سے بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، امتحانات کے التوا اور پرچے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔رپورٹ کے مطابق اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بی پی ایس سی امتحانات کے تنازع پر نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنی جواب دہی سے بچنے کے لیے پولیس کو استعمال کررہی ہے۔دکن ہیرالڈ نے احتجاج پر اپنے تجزیے میں پولیس کی کارروائی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے طرز حکمرانی اور رویے سے متعلق سوالات سے جوڑا ہے۔دوسری جانب احتجاج کرنے والے طلبہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، پانی کی توپیں استعمال کیں اور متعدد افراد کو گرفتار کیا۔ شہریوں نے بھی پولیس کے مبینہ تشدد اور گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔احتجاجی رہنما امان کمار نے کہا ہے کہ تعلیمی نظام کی خرابی اور پرچے لیک ہونے کے اسکینڈلز کے خلاف نوجوانوں کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وزیر تعلیم اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے۔