نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں تعلیمی نظام، سرکاری بھرتیوں میں مبینہ بے قاعدگیوں اور امتحانات میں شفافیت کے فقدان کے خلاف طلبہ کا احتجاج مزید شدت اختیار کرگیا۔ ریاست بہار میں سول سروسز کے امیدوار اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔بھارتی جریدے دکن ہیرالڈ کے مطابق طلبہ ایک عرصے سے بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، امتحانات کے التوا اور پرچے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔رپورٹ کے مطابق اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بی پی ایس سی امتحانات کے تنازع پر نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنی جواب دہی سے بچنے کے لیے پولیس کو استعمال کررہی ہے۔دکن ہیرالڈ نے احتجاج پر اپنے تجزیے میں پولیس کی کارروائی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے طرز حکمرانی اور رویے سے متعلق سوالات سے جوڑا ہے۔دوسری جانب احتجاج کرنے والے طلبہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، پانی کی توپیں استعمال کیں اور متعدد افراد کو گرفتار کیا۔ شہریوں نے بھی پولیس کے مبینہ تشدد اور گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔احتجاجی رہنما امان کمار نے کہا ہے کہ تعلیمی نظام کی خرابی اور پرچے لیک ہونے کے اسکینڈلز کے خلاف نوجوانوں کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وزیر تعلیم اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے۔
بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں پر طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیا
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں