تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں پر طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیا

بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں پر طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیا

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں تعلیمی نظام، سرکاری بھرتیوں میں مبینہ بے قاعدگیوں اور امتحانات میں شفافیت کے فقدان کے خلاف طلبہ کا احتجاج مزید شدت اختیار کرگیا۔ ریاست بہار میں سول سروسز کے امیدوار اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔بھارتی جریدے دکن ہیرالڈ کے مطابق طلبہ ایک عرصے سے بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، امتحانات کے التوا اور پرچے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔رپورٹ کے مطابق اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بی پی ایس سی امتحانات کے تنازع پر نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنی جواب دہی سے بچنے کے لیے پولیس کو استعمال کررہی ہے۔دکن ہیرالڈ نے احتجاج پر اپنے تجزیے میں پولیس کی کارروائی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے طرز حکمرانی اور رویے سے متعلق سوالات سے جوڑا ہے۔دوسری جانب احتجاج کرنے والے طلبہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، پانی کی توپیں استعمال کیں اور متعدد افراد کو گرفتار کیا۔ شہریوں نے بھی پولیس کے مبینہ تشدد اور گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔احتجاجی رہنما امان کمار نے کہا ہے کہ تعلیمی نظام کی خرابی اور پرچے لیک ہونے کے اسکینڈلز کے خلاف نوجوانوں کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وزیر تعلیم اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے۔