تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

عوامی مفاد میں زمین حاصل کرنا حکومت کا اختیار ہے: سپریم کورٹ

عوامی مفاد میں زمین حاصل کرنا حکومت کا اختیار ہے: سپریم کورٹ

اسلام آباد( پاکستان خبر) سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ریاست عوامی مفاد کے تحت زمین حاصل کر سکتی ہے، تاہم جائیداد کے مالک کو مکمل، منصفانہ اور مارکیٹ ویلیو کے مطابق معاوضہ دینا آئینی تقاضا ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ حکومت جائیداد کے مالک کی رضامندی کے بغیر بھی زمین حاصل کر سکتی ہے، لیکن یہ اختیار غیر محدود نہیں۔ عدالت کے مطابق آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 شہریوں کے حقِ ملکیت کا تحفظ کرتے ہیں اور حکومت کے اختیارات کو قانونی حدود میں رکھتے ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ زمین کے معاوضے کا تعین صرف سرکاری نرخوں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا بلکہ مارکیٹ ویلیو، زمین کے ممکنہ استعمال، مستقبل کی ترقی اور اراضی کے حصول میں تاخیر کے دوران افراطِ زر اور قیمتوں میں اضافے کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ "زمین کے مالک کو سونے کے بدلے سونا ملنا چاہیے، تانبا نہیں۔" متاثرہ شہری کو ایسا معاوضہ دیا جائے جو عوامی مفاد میں اس کی جائیداد کے حصول سے ہونے والے مالی نقصان کا مکمل ازالہ کر سکے۔سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ آرٹیکل 23 ہر شہری کو پاکستان میں جائیداد رکھنے، خریدنے، فروخت کرنے اور منتقل کرنے کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 24 کے تحت کسی بھی شخص کو قانون کے مطابق کارروائی اور مناسب معاوضے کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔یہ فیصلہ صوابی میں نہری منصوبے کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق مقدمے میں سنایا گیا، جہاں زمین مالکان نے سرکاری معاوضے کو ناکافی قرار دے کر عدالت سے رجوع کیا تھا۔ریفرنس کورٹ نے شواہد کی بنیاد پر معاوضے میں اضافہ کیا تھا، جسے بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ خیبرپختونخوا حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں، تاہم عدالت عظمیٰ نے تمام اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ منصفانہ معاوضہ ہر متاثرہ شہری کا آئینی حق ہے، اور ریاست عوامی مفاد میں زمین حاصل کرتے وقت اس حق کا مکمل تحفظ یقینی بنانے کی پابند ہے۔