تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں پیر کے روز تہران میں تاریخی جنازہ جلوس کا آغاز ہوگیا، جس میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق قومی پرچم میں لپٹے سید علی خامنہ ای کے تابوت کو خصوصی گاڑی کے ذریعے تہران کی مرکزی شاہراہوں سے گزارا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ ان اہلِ خانہ کے تابوت بھی موجود ہیں جو 28 فروری کو فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔رپورٹس کے مطابق جنازہ جلوس تہران سے مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے تک جائے گا، جہاں سے تدفین کے اگلے مرحلے کے لیے انتظامات کیے جائیں گے۔ایرانی حکام نے جلوس کے موقع پر غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ دارالحکومت کی متعدد اہم شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں، فضائی حدود پر پابندیاں عائد ہیں جبکہ سوگ کی تقریبات کے باعث کئی سرکاری اور نجی ادارے بھی بند رکھے گئے ہیں۔حکومت کو توقع ہے کہ ملک بھر سے لاکھوں افراد جنازے اور تعزیتی تقریبات میں شرکت کرکے شہید رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔سرکاری اعلامیے کے مطابق سوگ کی تقریبات جمعرات تک جاری رہیں گی، جس کے بعد علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں حضرت امام رضاؑ کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور جنگ کے مستقل خاتمے سے متعلق سفارتی مذاکرات تدفین کی تقریبات مکمل ہونے تک مؤخر کر دیے گئے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایران میں جاری سوگ اور جنازے کی تقریبات مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاسی اعتبار سے بھی غیر معمولی حیثیت رکھتی ہیں، جن پر خطے اور عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔