تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے قبل دارالحکومت تہران میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اہم شاہراہوں، سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات پر اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ شہر بھر میں مسلسل گشت بھی جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ایرانی حکام نے ہفتے سے پیر تک سرکاری اور نجی دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران مرکزی علاقوں میں ٹریفک پر پابندیاں نافذ ہوں گی جبکہ فضائی حدود بھی مرحلہ وار محدود کی جا رہی ہیں، اور پیر کے روز مکمل فضائی آپریشن معطل رہے گا۔رپورٹس کے مطابق تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا ہے جہاں شہری بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں ادا کی جائیں گی، جن میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔تقریبات کے دوران تہران، قم اور مشہد میں عام تعطیل بھی نافذ کی گئی ہے، جبکہ نجف اور کربلا میں مذہبی رسومات کے بعد میت کو ایران واپس لا کر مشہد میں دفن کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق تقریباً 30 ممالک کے سرکاری نمائندے اور اعلیٰ شخصیات بھی ان رسومات میں شرکت کریں گے، جس کے باعث سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔