تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

تہران میں آخری رسومات سے قبل سخت سکیورٹی، شہر میں ہائی الرٹ

تہران میں آخری رسومات سے قبل سخت سکیورٹی، شہر میں ہائی الرٹ

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے قبل دارالحکومت تہران میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اہم شاہراہوں، سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات پر اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ شہر بھر میں مسلسل گشت بھی جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ایرانی حکام نے ہفتے سے پیر تک سرکاری اور نجی دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران مرکزی علاقوں میں ٹریفک پر پابندیاں نافذ ہوں گی جبکہ فضائی حدود بھی مرحلہ وار محدود کی جا رہی ہیں، اور پیر کے روز مکمل فضائی آپریشن معطل رہے گا۔رپورٹس کے مطابق تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا ہے جہاں شہری بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں ادا کی جائیں گی، جن میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔تقریبات کے دوران تہران، قم اور مشہد میں عام تعطیل بھی نافذ کی گئی ہے، جبکہ نجف اور کربلا میں مذہبی رسومات کے بعد میت کو ایران واپس لا کر مشہد میں دفن کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق تقریباً 30 ممالک کے سرکاری نمائندے اور اعلیٰ شخصیات بھی ان رسومات میں شرکت کریں گے، جس کے باعث سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔