تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

تہران میں آخری رسومات سے قبل سخت سکیورٹی، شہر میں ہائی الرٹ

تہران میں آخری رسومات سے قبل سخت سکیورٹی، شہر میں ہائی الرٹ

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے قبل دارالحکومت تہران میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اہم شاہراہوں، سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات پر اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ شہر بھر میں مسلسل گشت بھی جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ایرانی حکام نے ہفتے سے پیر تک سرکاری اور نجی دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران مرکزی علاقوں میں ٹریفک پر پابندیاں نافذ ہوں گی جبکہ فضائی حدود بھی مرحلہ وار محدود کی جا رہی ہیں، اور پیر کے روز مکمل فضائی آپریشن معطل رہے گا۔رپورٹس کے مطابق تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا ہے جہاں شہری بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں ادا کی جائیں گی، جن میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔تقریبات کے دوران تہران، قم اور مشہد میں عام تعطیل بھی نافذ کی گئی ہے، جبکہ نجف اور کربلا میں مذہبی رسومات کے بعد میت کو ایران واپس لا کر مشہد میں دفن کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق تقریباً 30 ممالک کے سرکاری نمائندے اور اعلیٰ شخصیات بھی ان رسومات میں شرکت کریں گے، جس کے باعث سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔