تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

تہران میں آخری رسومات سے قبل سخت سکیورٹی، شہر میں ہائی الرٹ

تہران میں آخری رسومات سے قبل سخت سکیورٹی، شہر میں ہائی الرٹ

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے قبل دارالحکومت تہران میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اہم شاہراہوں، سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات پر اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ شہر بھر میں مسلسل گشت بھی جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ایرانی حکام نے ہفتے سے پیر تک سرکاری اور نجی دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران مرکزی علاقوں میں ٹریفک پر پابندیاں نافذ ہوں گی جبکہ فضائی حدود بھی مرحلہ وار محدود کی جا رہی ہیں، اور پیر کے روز مکمل فضائی آپریشن معطل رہے گا۔رپورٹس کے مطابق تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا ہے جہاں شہری بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں ادا کی جائیں گی، جن میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔تقریبات کے دوران تہران، قم اور مشہد میں عام تعطیل بھی نافذ کی گئی ہے، جبکہ نجف اور کربلا میں مذہبی رسومات کے بعد میت کو ایران واپس لا کر مشہد میں دفن کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق تقریباً 30 ممالک کے سرکاری نمائندے اور اعلیٰ شخصیات بھی ان رسومات میں شرکت کریں گے، جس کے باعث سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔