تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

منجمد ایرانی اثاثوں سے متعلق خبروں پر تہران کا سخت ردعمل

منجمد ایرانی اثاثوں سے متعلق خبروں پر تہران کا سخت ردعمل

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کی جانب سے ایران کے منجمد اثاثے خلیجی اتحادیوں کو دینے کی خبروں پر تہران کا سخت ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ علاقائی حکومتیں کسی قسم کے معاوضے کا مطالبہ کرنے کی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ان کے مطابق منجمد ایرانی اثاثے نہ تو امریکا کے لیے جنگی وسائل ہیں اور نہ ہی اس کے اتحادی ممالک کے لیے کوئی مالی فنڈ۔یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثے خلیجی اتحادی ممالک کو منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ مبینہ نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے متعلقہ ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ خلیجی ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کا تفصیلی تخمینہ تیار کیا جائے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیاسی اور سفارتی کشیدگی پہلے ہی جاری ہے اور فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار ہے۔