تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

افغانستان میں کشیدگی میں اضافہ، بدخشاں میں مسلح جھڑپوں کا خدشہ

افغانستان میں کشیدگی میں اضافہ، بدخشاں میں مسلح جھڑپوں کا خدشہ

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں طالبان حکومت کی پالیسیوں اور وسائل پر کنٹرول کے تنازعے کے باعث بدخشاں سمیت کئی علاقوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق باغی کمانڈر جمعہ خان فاتح نے طالبان حکومت کے خلاف اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد صوبہ بدخشاں میں صورتحال انتہائی نازک ہو گئی ہے۔ سابق ڈپٹی گورنر اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات نے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں میں جمعہ خان فاتح کی جانب سے جنگی تیاریوں اور عسکری صف بندی میں تیزی آ چکی ہے۔ وہ اپنے جنگجوؤں کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی عمائدین سے بھی مشاورت کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق حکومتی مذاکرات اور عہدوں کی پیشکش کے باوجود انہوں نے طالبان حکومت کے ڈھانچے میں واپسی سے انکار کر دیا ہے۔کمانڈر جمعہ خان نے اپنی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے اور فوجی و لاجسٹک سطح پر مکمل تیاریوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدخشاں کا پہاڑی علاقہ ممکنہ فوجی کارروائی کو مشکل بنا سکتا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ افغانستان میں مختلف مسلح اور مزاحمتی گروہ سرگرم ہیں، جن میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغان فریڈم فرنٹ اور دیگر تحریکیں شامل ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت کو اندرونی اختلافات اور مسلح مزاحمت کے بڑھتے ہوئے رجحان کا سامنا ہے، جس سے ملک میں سیاسی و سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔