لاہور ( سپورٹس ڈیسک)بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں 406 رنز کا ہدف کامیابی سے حاصل کرنے کے باوجود گوہاٹی کی پچ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔گوتم گمبھیر کے مطابق مذکورہ وکٹ پر بلے اور گیند کے درمیان متوازن مقابلہ دکھائی نہیں دیا اور گیند بازوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لیے مناسب حالات میسر نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ ایسی پچ پر 400 سے زائد رنز بننا ریکارڈز، شائقین اور نشریاتی اداروں کے لیے دلچسپ ضرور ہوسکتا ہے، تاہم گیند بازوں کے نقطۂ نظر سے یہ صورت حال مناسب نہیں۔ ان کے بقول، ’’یہ کرکٹ نہیں، صرف بیٹنگ ہے‘‘ اور گیند بازوں کو بھی کچھ نہ کچھ مدد ملنی چاہیے۔بھارتی ہیڈ کوچ نے کہا کہ مشکل بیٹنگ حالات نہ ہونے کی صورت میں گیند بازوں کی کارکردگی کا اندازہ صرف اعدادوشمار سے نہیں لگایا جانا چاہیے، بلکہ ان کی گیند کی لائن، لینتھ اور طے شدہ حکمت عملی پر عملدرآمد کو بھی دیکھا جانا ضروری ہے۔گمبھیر نے نوجوان کھلاڑیوں کو مشکل حالات میں مواقع دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خصوصاً عاقب نبی جیسے نوجوان گیند بازوں کو بڑے مقابلوں کے دباؤ کے لیے تیار کرنا ضروری ہے۔انہوں نے 2027ء کے عالمی کپ کی تیاریوں کے حوالے سے بھی جلد فیصلے کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی کپ سے قبل بھارت کے پاس تقریباً 20 ایک روزہ میچز باقی ہیں، اس لیے مختلف کھلاڑیوں اور ٹیموں کی تشکیل کو آزمانے کا عمل تیزی سے مکمل کرنا ہوگا۔گوتم گمبھیر کے مطابق نوجوان گیند بازوں کو مشکل حالات میں آزمانے سے ہی مستقبل کے لیے مضبوط ٹیم تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔