تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

ٹرمپ کی مقبولیت 33 فیصد، سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا

ٹرمپ کی مقبولیت 33 فیصد، سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت مزید گر کر 33 فیصد رہ گئی ہے، جسے ان کے سیاسی کیریئر کی اب تک کی کم ترین سطح قرار دیا جا رہا ہے۔رائٹرز کے تازہ جائزے کے مطابق امریکی عوام میں صدر کی کارکردگی سے ناراضی بڑھ رہی ہے۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کو مقبولیت میں کمی کی بڑی وجوہات میں شمار کیا گیا ہے۔جائزے کے مطابق بڑی تعداد میں امریکی شہری مہنگائی اور روزمرہ اخراجات پر قابو پانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات سے بھی مطمئن نہیں۔ تقریباً 71 فیصد امریکیوں نے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے صدر کے طریقہ کار پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں۔ ان انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں سمیت اہم سیاسی مقابلے ہوں گے، جس کے باعث دونوں بڑی جماعتیں صدر کی مقبولیت اور عوامی رجحانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔رائٹرز کے سروے میں آزاد ووٹرز کے رجحانات بھی ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا دکھائی دیے۔ 36 فیصد آزاد ووٹرز نے کہا کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ 22 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کا عندیہ دیا۔امریکی انتخابی سیاست میں آزاد ووٹرز کو فیصلہ کن اہمیت حاصل ہے، کیونکہ وہ مستقل طور پر کسی ایک جماعت سے وابستہ نہیں ہوتے۔ ان کا رجحان کئی اہم ریاستوں اور انتخابی حلقوں میں انتخابی نتائج پر اثر ڈال سکتا ہے۔ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جنگ کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی تنازع کے تناظر میں امریکا میں جنگی اخراجات، امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور اس کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے۔