تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نئی علاقائی رقابت میں تبدیل،اکانومسٹ رپورٹ

ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نئی علاقائی رقابت میں تبدیل،اکانومسٹ رپورٹ

لندن( مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی جریدے اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کو سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو شام میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور فوجی موجودگی پر تشویش ہے، جبکہ ترکیہ کے سعودی عرب، پاکستان اور مصر کے ساتھ دفاعی تعاون کو بھی خطے میں بدلتے ہوئے تزویراتی توازن کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اکانومسٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے آرمینیائی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے فیصلے نے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی سیاسی حلقے اب ترکیہ کا ذکر ایران کے ساتھ کرتے ہیں، جو اعتماد میں کمی کی علامت ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ترکیہ کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت پر اسرائیل میں بھی تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ وہ خطے میں اپنی فوجی برتری کو قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے اختلافات اب محض سفارتی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ اسٹریٹجک رقابت میں تبدیل ہو رہے ہیں، جس کے اثرات خطے کی مجموعی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔