تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نئی علاقائی رقابت میں تبدیل،اکانومسٹ رپورٹ

ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نئی علاقائی رقابت میں تبدیل،اکانومسٹ رپورٹ

لندن( مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی جریدے اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کو سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو شام میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور فوجی موجودگی پر تشویش ہے، جبکہ ترکیہ کے سعودی عرب، پاکستان اور مصر کے ساتھ دفاعی تعاون کو بھی خطے میں بدلتے ہوئے تزویراتی توازن کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اکانومسٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے آرمینیائی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے فیصلے نے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی سیاسی حلقے اب ترکیہ کا ذکر ایران کے ساتھ کرتے ہیں، جو اعتماد میں کمی کی علامت ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ترکیہ کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت پر اسرائیل میں بھی تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ وہ خطے میں اپنی فوجی برتری کو قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے اختلافات اب محض سفارتی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ اسٹریٹجک رقابت میں تبدیل ہو رہے ہیں، جس کے اثرات خطے کی مجموعی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔