تازہ ترین
ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ثاقب چدھڑ اور اہلیہ کی ضمانت میں توسیع سوہائے علی ابڑو نے علیحدگی کی افواہوں کی تردید کر دی کبریٰ خان کی سارہ علی خان اور شرمیلا ٹیگور کے ساتھ ویڈیووائرل شہرت عارضی ہے:ماہرہ خان کا انکشاف بچوں کے تحفظ کے معاملے پر میٹا کی مشکلات بڑھنے کا امکان چین نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر تیار کر لیا
پاکستان خبر

متحدہ عرب امارات میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان

متحدہ عرب امارات میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان

دبئی( ویب ڈیسک)متحدہ عرب امارات نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا سمیت ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے اسی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں۔اماراتی کابینہ کی قرارداد کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 15 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کی نگرانی کریں اور انہیں بند کریں۔قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر پلیٹ فارمز اس اصول پر عمل درآمد نہ کریں تو متعلقہ اکاؤنٹس کو بلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کمپنیوں کو 12 ماہ کی عبوری مدت دی گئی ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق نئی پالیسی کے تحت سوشل میڈیا استعمال کی کم از کم عمر 15 سال مقرر کر دی گئی ہے، اور اس سے کم عمر بچوں کو ذاتی اکاؤنٹ بنانے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس سے قبل آسٹریلیا نے دسمبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی تھی، جو اپنی نوعیت کی پہلی عالمی مثال قرار دی گئی تھی۔بعد ازاں برطانیہ سمیت کئی ممالک نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں، جبکہ انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکیہ اور یورپ کے متعدد ممالک میں پہلے ہی نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت ضوابط نافذ ہیں۔