تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

متحدہ عرب امارات میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان

متحدہ عرب امارات میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان

دبئی( ویب ڈیسک)متحدہ عرب امارات نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا سمیت ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے اسی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں۔اماراتی کابینہ کی قرارداد کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 15 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کی نگرانی کریں اور انہیں بند کریں۔قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر پلیٹ فارمز اس اصول پر عمل درآمد نہ کریں تو متعلقہ اکاؤنٹس کو بلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کمپنیوں کو 12 ماہ کی عبوری مدت دی گئی ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق نئی پالیسی کے تحت سوشل میڈیا استعمال کی کم از کم عمر 15 سال مقرر کر دی گئی ہے، اور اس سے کم عمر بچوں کو ذاتی اکاؤنٹ بنانے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس سے قبل آسٹریلیا نے دسمبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی تھی، جو اپنی نوعیت کی پہلی عالمی مثال قرار دی گئی تھی۔بعد ازاں برطانیہ سمیت کئی ممالک نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں، جبکہ انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکیہ اور یورپ کے متعدد ممالک میں پہلے ہی نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت ضوابط نافذ ہیں۔