تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

متحدہ عرب امارات میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان

متحدہ عرب امارات میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان

دبئی( ویب ڈیسک)متحدہ عرب امارات نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا سمیت ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے اسی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں۔اماراتی کابینہ کی قرارداد کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 15 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کی نگرانی کریں اور انہیں بند کریں۔قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر پلیٹ فارمز اس اصول پر عمل درآمد نہ کریں تو متعلقہ اکاؤنٹس کو بلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کمپنیوں کو 12 ماہ کی عبوری مدت دی گئی ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق نئی پالیسی کے تحت سوشل میڈیا استعمال کی کم از کم عمر 15 سال مقرر کر دی گئی ہے، اور اس سے کم عمر بچوں کو ذاتی اکاؤنٹ بنانے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس سے قبل آسٹریلیا نے دسمبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی تھی، جو اپنی نوعیت کی پہلی عالمی مثال قرار دی گئی تھی۔بعد ازاں برطانیہ سمیت کئی ممالک نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں، جبکہ انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکیہ اور یورپ کے متعدد ممالک میں پہلے ہی نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت ضوابط نافذ ہیں۔