نیویارک (ویب ڈیسک) دنیا کے معروف ارب پتی کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و ایکس اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت آئندہ چار سے پانچ برسوں میں تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی زیادہ صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔یہ بیان انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بحث کے دوران دیا۔ یہ گفتگو معروف کاروباری شخصیت اور مصنف پیٹر ایچ ڈیامنڈس کے اس مؤقف کے جواب میں سامنے آئی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انسانی ترقی صرف ذہانت پر نہیں بلکہ وسائل اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی پر بھی منحصر ہے۔اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ قوی امکان ہے کہ مصنوعی ذہانت اگلے چار سے پانچ سال کے دوران تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے آگے بڑھ جائے گی۔ایلون مسک طویل عرصے سے مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ وہ ایک طرف اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہیں اور دوسری جانب اسے انسانی تاریخ کی اہم ترین اور انقلابی ایجادات میں شمار کرتے ہیں۔انہوں نے ایک اور پیغام میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے ایک غیرمعمولی دور کی پیش گوئی کی، جس کے نتیجے میں اشیاء اور خدمات کی پیداوار میں نمایاں اضافہ جبکہ لاگت میں بڑی حد تک کمی ممکن ہو سکے گی۔ایلون مسک کے مطابق اس تصور کا ایک اہم حصہ ٹیسلا کا انسانی شکل والا روبوٹ ’’آپٹیمس‘‘ ہے، جو مستقبل میں فیکٹریوں، ترسیلِ سامان، تعمیرات اور دیگر شعبوں میں بار بار دہرائے جانے والے، مشکل اور خطرناک کام انجام دینے کی صلاحیت رکھے گا۔تاہم ماہرین کی ایک بڑی تعداد ایلون مسک کی اس پیش گوئی سے مکمل طور پر متفق نہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، لیکن انسانی سطح یا اس سے برتر ذہانت حاصل کرنے کے راستے میں اب بھی کئی پیچیدہ سائنسی اور تکنیکی چیلنجز موجود ہیں۔
مصنوعی ذہانت چند برسوں میں انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے، ایلون مسک
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی