تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

مصنوعی ذہانت چند برسوں میں انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے، ایلون مسک

مصنوعی ذہانت چند برسوں میں انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے، ایلون مسک

نیویارک (ویب ڈیسک) دنیا کے معروف ارب پتی کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و ایکس اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت آئندہ چار سے پانچ برسوں میں تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی زیادہ صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔یہ بیان انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بحث کے دوران دیا۔ یہ گفتگو معروف کاروباری شخصیت اور مصنف پیٹر ایچ ڈیامنڈس کے اس مؤقف کے جواب میں سامنے آئی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انسانی ترقی صرف ذہانت پر نہیں بلکہ وسائل اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی پر بھی منحصر ہے۔اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ قوی امکان ہے کہ مصنوعی ذہانت اگلے چار سے پانچ سال کے دوران تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے آگے بڑھ جائے گی۔ایلون مسک طویل عرصے سے مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ وہ ایک طرف اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہیں اور دوسری جانب اسے انسانی تاریخ کی اہم ترین اور انقلابی ایجادات میں شمار کرتے ہیں۔انہوں نے ایک اور پیغام میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے ایک غیرمعمولی دور کی پیش گوئی کی، جس کے نتیجے میں اشیاء اور خدمات کی پیداوار میں نمایاں اضافہ جبکہ لاگت میں بڑی حد تک کمی ممکن ہو سکے گی۔ایلون مسک کے مطابق اس تصور کا ایک اہم حصہ ٹیسلا کا انسانی شکل والا روبوٹ ’’آپٹیمس‘‘ ہے، جو مستقبل میں فیکٹریوں، ترسیلِ سامان، تعمیرات اور دیگر شعبوں میں بار بار دہرائے جانے والے، مشکل اور خطرناک کام انجام دینے کی صلاحیت رکھے گا۔تاہم ماہرین کی ایک بڑی تعداد ایلون مسک کی اس پیش گوئی سے مکمل طور پر متفق نہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، لیکن انسانی سطح یا اس سے برتر ذہانت حاصل کرنے کے راستے میں اب بھی کئی پیچیدہ سائنسی اور تکنیکی چیلنجز موجود ہیں۔