تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

اے آئی سے بچوں کی تصاویر کے غلط استعمال کا خطرہ، برطانوی ادارے کا والدین کو انتباہ

اے آئی سے بچوں کی تصاویر کے غلط استعمال کا خطرہ، برطانوی ادارے کا والدین کو انتباہ

لندن( ویب ڈیسک) برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے وقت انتہائی احتیاط کریں، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان مواد کو تبدیل کر کے غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ عام خاندانی تصاویر بھی سائبر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھ لگنے کے بعد حقیقت سے مشابہ جعلی اور نامناسب مواد میں تبدیل کی جا سکتی ہیں، جس سے بچوں کی نجی زندگی اور تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کے بڑھتے رجحان، جسے ’’شرینٹنگ‘‘ کہا جاتا ہے، نے ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ والدین اکثر یادگار لمحات محفوظ رکھنے کے لیے تصاویر شیئر کرتے ہیں، تاہم یہی مواد بعض اوقات جرائم پیشہ عناصر کے لیے غلط استعمال کا ذریعہ بن سکتا ہے۔نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق مجرمان مصنوعی ذہانت کی مدد سے حقیقی تصاویر کو جعلی تصاویر اور ویڈیوز میں تبدیل کر رہے ہیں، جنہیں بچوں کے استحصال سے متعلق غیر قانونی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ بچوں سے متعلق تقریباً 3 ہزار 500 جعلی تصاویر اور ویڈیوز رپورٹ ہوئیں، جبکہ 2024 میں ایسے واقعات کی تعداد صرف 13 تھی، جو اس خطرناک رجحان میں تیزی کو ظاہر کرتی ہے۔ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو نجی رکھیں، بچوں کی تصاویر صرف قابلِ اعتماد افراد تک محدود رکھیں اور پرائیویسی فیچرز جیسے کلوز فرینڈز کا استعمال کریں تاکہ بچوں کی آن لائن حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔